
کیا کسی غیر مسلم کے خون کو کسی مسلمان کو لگانا جائز ہے؟ کیا اس میں عقیدہ یا جسمانی طہارت کو مدِ نظر رکھا جائے گا؟
ضرورت کے وقت مسلمان کو غیر مسلم کا خون لگانا جائز ہے، البتہ مسلمان کے خون ہوتے ہوئے غیر مسلم کے خون کو نہ لگانا بہتر ہے، اس لیے کافر کے خون میں جو اثرات خبیثہ ہیں، ان کے منتقل ہونے اور مسلمان کے خون میں اس کے اثرانداز ہونے کا قوی امکان ہے، باقی منتقل کرنے کے بعد جسم ناپاک نہیں ہو گا،کیوں کہ کفر کی ناپاکی عقیدہ کے اعتبار سے ہے، جسم کے اعتبار سے نہیں۔
الاشراف علی مذاہب العلماء میں ہے:
"اختلف أهل العلم بالاسترضاع بلبن الفاجرة، والذمية، فرخص فيه ابن سيرين، والحسن، والنخعي، وكذلك قال الثوري في لبن الفاجرة، وبه قال مالك في لبن النصرانية. وكره مجاهد أن يسترضع بلبن الفجور، وحكى أبو عبيد ذلك عن مالك، وكره ذلك أبو عبيد. ورخص في لبن النصرانية، والمجوسية إذا كان من نكاح. وكره أحمد، وإسحاق لبن ولد الزنا أن يرضع به."
(کتاب الرضاع، باب الاسترضاع بلبن الفجور، وألبان أهل الذمة، ج:5، ص:122، ط:مكتبة مكة الثقافية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144702100830
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن