بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ربیع الاول 1448ھ 24 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

خون عطیہ کرتے وقت کیا نیت کریں


سوال

کیا خون عطیہ کرتے وقت نیتِ قربت (اللہ کی رضا) ضروری ہے تاکہ ثواب حاصل ہو؟ یا محض عطیہ دینا بھی باعثِ اجر ہے، خواہ نیت نہ ہو؟

جواب

واضح رہے کہ خون دینے کو لغوی پہلو سے عطیہ کہتے ہیں ،وگرنہ شرعاً عطا کردہ شے کا مال ہونا ضروری ہے،اور خون مال ہے نہ انسان اس کا مالک ہے،نیز  انسان مکرم ہے ،اور انسانی جسم کی قطع وبرید ،اس کے اجزاء سے انتفاع  تکریم کے منافی  ہے،اسی وجہ سے دیگر انسانی اجزاء سے انتفاع کی طرح  خون سے بھی انتفاع  جائز نہیں ،البتہ کسی انسان کی جان کو خطرہ ہو یا مرض شدید لاحق ہو ، جان کی حفاظت اور صحت یابی سوائے خون دینے کے ممکن ہی نہ ہو تو جان بچانے یا صحت یابی کی عرض سے انسانی دودھ پر قیاس کرتے ہوئےعلماء نے اس کی اجازت دی ہے،پس خون دیتے ہوئے جان بچانے کی نیت کر لینا ہی ثواب کا باعث ہے،اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

"وَمَنْ اَحْيَاهَا فَكَاَنَّمَآ اَحْيَا النَّاسَ جَمِيْعًا"

ترجمہ:

"اور جو شخص کسی شخص کو بچالیوے تو گویا اس نے تمام آدمیوں کو بچالیا۔"

البتہ  دنیوی منفعت(ریا ،نمود،شہرت وغیرہ)  کی آمیزش  ثواب سے محرومی کا باعث ہو گی ۔

اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

"وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِيْٓ اٰدَمَ وَحَمَلْنٰهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ وَفَضَّلْنٰهُمْ عَلٰي كَثِيْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيْلًا"

(سورہ اسراء، آيت نمبر: 70)

ترجمہ:

اور ہم نے آدم (علیہ السلام) کی اولاد کو عزت دی  اور ہم نے ان کو خشکی اور دریا میں سوار کیا اور نفیس نفیس چیزیں ان کو عطا فرمائیں اور ہم نے ان کو اپنی بہت سی مخلوقات پر فوقیت دی۔

(بیان القرآن)

تفسیر کبیر میں ہے:

"البحث الأول: أنه قال في أول الآية: ولقد كرمنا بني آدم وقال في آخرها: وفضلناهم/ ولا بد من الفرق بين هذا التكريم والتفضيل وإلا لزم التكرار، والأقرب أن يقال: إنه تعالى ‌فضل ‌الإنسان ‌على سائر الحيوانات بأمور خلقية طبيعية ذاتية مثل العقل والنطق والخط والصورة الحسنة والقامة المديدة، ثم إنه تعالى عرضه بواسطة ذلك العقل والفهم لاكتساب العقائد الحقة والأخلاق الفاضلة، فالأول هو التكريم والثاني هو التفضيل."

(سورہ اسراء ،ج:21،ص:375،ط:دار احیاء التراث العربی)

امداد الفتاویٰ میں ہے:

"سوال: گذارش یہ ہے کہ حضرت ہم بہت سے کام کرتے ہیں جس میں کچھ نیت نہیں ہوتی محض کام کرنے کا ارادہ ہوتا ہے، آیا اس میں ثواب ہوگا یا نہیں، نہ ثواب کی نیت کا خیال رہتا ہے، اگر نہ ہو تو خیال رکھنے کے لیے کیا تدبیرہونی چاہیے؟

الجواب: گو جزئیاً ارادہ ثواب کا نہ ہو مگر کلیاً تو ہوتا ہے، وہ کافی ہے، دوسرے مدار ثواب کا نیتِ عمل پر ہے، مع عدم ارادۃ الدنیا، گو اس کے ساتھ ثواب کا بالاستقلال ارادہ نہ ہو اور ”إنما الأعمال بالنيات“ کے یہی معنی ہیں۔ البتہ اگر عمل ہی کی نیت نہ ہو جیسے بارش میں بدن تر ہوگیا یا غوطہ لگانے سے تر ہوگیا تو وضو ہو گیا مگر ثواب نہیں ہوا اور اگر قصداً وضو کیا گو ثواب کی نیت سے نہیں کیا، مگر شرط یہ ہے کہ دنیا کی کسی غرض سے نہیں کیا تو ثواب ہوگا۔"

 

(مسائلِ شتی،ج:4،ص:518، ط: دار الاشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144702100827

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں