بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ربیع الاول 1448ھ 23 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا خون عطیہ کرنا صدقہ جاریہ ہے؟


سوال

کیا خون کا عطیہ دینا صدقۂ جاریہ کے درجے میں آتا ہے یا یہ وقتی نیکیوں میں شمار ہوتا ہے؟ اور شریعت کی نظر میں اس کا کیا اجر ہے؟

جواب

واضح رہے کہ انسانی جسم کا جزء ہونے کی حیثیت سے خون سے کسی قسم کا انتفاع یعنی فائدہ حاصل کرنا ممنوع ہے، لیکن بوقتِ مجبوری اگر ماہر ڈاکٹر یہ تجویز کرے کہ مریض کو خون دینے سے اس کی جان بچائی جا سکتی ہے یا اسے بیماری سے شفاء مل سکتی ہےتو اس وقت خون دینے کی اجازت ہے۔ نیز چوں کہ  خون دینے سے کسی انسان کی جان بچائی جاتی ہے اور کسی مصیبت زدہ انسان کی جان بچانا باعثِ ثواب ہے،  لہذا خون دینے میں ثواب کی بھی امید کی جا سکتی ہے، قرآن مجید میں ایک انسان کی جان بچانے کو تمام انسانیت کو بچانا قرار دیا گیا ہے۔

تاہم خون عطیہ کرنے کو صدقہ جاریہ کہنا مشکل ہے، کیوں صدقہ جاریہ اس صدقہ کو کہا جاتا ہے جس کا نفع دائمی اور مسلسل ہو جو عام طور پر صدقہ کرنے والے کے انتقال کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔

سورۃ المائدہ میں ہے:

مِنْ أَجْلِ ذلِكَ كَتَبْنا عَلى بَنِي إِسْرائِيلَ أَنَّهُ مَنْ قَتَلَ نَفْساً بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّما قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعاً وَمَنْ أَحْياها فَكَأَنَّما أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعاً (المائدة: 32)

ترجمہ:  اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ لکھ دیا کہ جو شخص کسی شخص کو بلامعاوضہ دوسرے شخص کے یا بدون کسی فساد کے (جو) زمین میں (اس سے پھیلا ہو) قتل کرڈالے تو گویا اس نے تمام آدمیوں کو قتل کرڈالا اور جو شخص کسی شخص کو بچالیوے تو گویا اس نے تمام آدمیوں کو بچالیا  (از بیان القرآن)

تفسیر رازی میں ہے:

"المسألة السادسة: قوله ومن أحياها فكأنما أحيا الناس جميعا المراد من إحياء النفس تخليصها عن المهلكات: مثل الحرق والغرق والجوع المفرط والبرد والحر المفرطين".

(سورة المائدة، 11/ 344، ط: دار إحياء التراث العربي)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"وعن أبي هريرة - رضي الله عنه - قال؟ قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم: " «إذا مات الإنسان انقطع عنه عمله إلا من ثلاثة أشياء: صدقة جارية أو علم ينتفع به، أو ولد صالح يدعو له» ". رواه مسلم... 

(جارية) : يجري نفعها فيدوم أجرها كالوقف في وجوه الخير، وفي الأزهار قال أكثرهم: هي الوقف وشبهه مما يدوم نفعه، وقال بعضهم: هي القناة والعين الجارية المسبلة. قلت: وهذا داخل في عموم الأول، ولعلهم أرادوا هذا الخاص لكن لا وجه للتخصيص... قال الطيبي: الاستثناء متصل تقديره ينقطع عنه ثواب أعماله من كل شيء كالصلاة والزكاة، ولا ينقطع ثواب أعماله من هذه الثلاثة يعني: إذا مات الإنسان لا يكتب له أجر أعماله لأنه جزاء العمل وهو منقطع بموته إلا فعلا دائم الخير مستمر النفع مثل وقف أرض أو تصنيف كتاب أو تعليم مسألة يعمل بها، أو ولد صالح، وجعل الولد من العمل لأنه السبب في وجوده اهـ".

(كتاب العلم، 1/ 285، ط: دار الفكر)

کفایت المفتی میں ہے:

"ایک انسان کا خون دوسرے کے بدن میں داخل کرنا ناجائز ہے چونکہ اس میں ا نتفا ع بجزء الانسان اور انتفاع بالنجس دونوں علتیں ہیں اور یہ دونوں ناجائز ہیں  الانتفاع بأجزاء الآدمي لم يجز قيل للنجاسة وقيل للكرامة هو الصحيح(عالمگیری) لیکن اگر کسی مریض کی جان کا خوف ہو اور کوئی طبیب مسلم حاذق کہہ دے کہ اس کے بدن میں خون پہنچانا اس کی جان بچانے کا ذریعہ ہوسکتا ہے تو اس وقت یہ مباح ہوگا- يجوز للعليل شرب الدم والبول وأكل الميتة للتداوي إذا أخبره طبيب مسلم إن شفاءه فيه ولم يجد من المباح ما يقوم مقامه( عالمگیری) "

(کتاب الحظر والاباحۃ، نواں باب: طب اور ڈاکٹری، فصلِ دوم: مریض کو خون دینا،9/156، ط: دار الاشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144702100826

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں