
1۔ کا ئی بور kibor ریٹ جو کہ بینکوں کا عمومی پروفیٹ ریٹ ہوتا ہے، یہ ریٹ کنوینشنل بینک بھی استعمال کرتے ہے اور اسلامی بینک بھی استعمال کرتے ہے تو کیا اس ریٹ کے استعمال کی وجہ سے اسلامی بینک کے معاملات سودی معاملات نہیں بن جاتے ؟
2 ۔قسطوں یا کرایہ کے معاملہ میں اگر پانچ سال (مثلا) کا معاہدہ ہو ان پانچ سالوں میں کرایہ کوئی متعین نہ ہو بلکل مختلف ہوتا ہو تو کیا اس وجہ سے کرایہ یا قسط میں غرر نہیں آے گا؟ کیونکہ اسلامی بینک میں کرایہ ہر سال تبدیل ہوتا رہتا ہے اس طرح قسطوں میں بھی تبدیلی آتی ہے تو کیا یہ غرر کے حکم میں نہیں آتا؟
3۔ اسلامی بینک سے اگر کوئی شخص اجارہ کرےمثلاً کار اجارہ یا مکان کا اجارہ ،اور اگر کوئی شخص کرائے کے معاملہ کی مدت کے دوران یہ معاہدہ ختم کر دے یعنی وہ مزید کرایہ ادانہ کر سکے تو یہ بات کیسے معلوم ہوگی کہ جو اثاثہ لیا گیا ہے، اس کا کون سہ حصہ ادا کی گی قسطوں کے بدلہ اس شخص کی ملکیت میں آیا ہے ؟
4۔تاخیر ادائیگی کی صورت میں اسلامی بینک جو جرمانہ لگاتے ہے ان کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟ آیا ایسا کرنا شرعا جائز ہے یا نہیں؟
1۔واضح رہے کہ مختلف وجوہ کی بناء پر بینکوں کے درمیان سودی قرضوں کی بدلتی ہوئی شرح سود مقرر کرنے کا عمل "کائبور ریٹ" کہلاتا ہے،شرح سود کے اس پیمانے کے ساتھ متعلق ہونے کی وجہ سے اسلامی کہلانے والے بینکوں کے منافع بھی سودی اور غیر اسلامی ہی ٹھہرتے ہیں،اس لیے کائبور ریٹ کو اپنے منافع کا معیار بنانے والے اسلامی بینک غیر سودی اور اسلامی نہیں ہو سکتے:
(ا)اسلامی بینک کا نفع اپنی شرح کی کمی بیشی میں نہ صرف یہ کہ سودی قرضہ کے معیار کا پابند رہتاہے، بلکہ سودی قرضہ کے ساتھ گہری مشابہت بھی رکھتاہے، جبکہ شریعت اسلامیہ میں سودی معاملات کے اشتباہ اور مشابہت سے بھی منع فرمایا گیاہے۔(1)
(ب)اسلامی بینکوں کا دعوی ہے کہ وہ سودی قرضے کی بجائے اشیاء کی تجارت کرتے ہیں،کائبور کے ساتھ اسلامی بینکوں کے منافع مربوط ہونے سے خود ہی اس دعوی کی نفی ہوتی ہے کیونکہ سودی قرضوں کی شرح، قرض کا معاملہ کرنے والے فریق اپنے مخصوص یا طے شدہ عوامل کے تحت خود ہی طے کرتے ہیں جبکہ اشیاء کی قیمتوں اور منافعوں کی کمی بیشی کا تعین طلب و رسد کے فطری عوامل کی بنیاد پر ہوتا ہے، اس لیے کائبور کے ساتھ جڑے ہوئے منافع خور اداروں کو غیر سودی کی بجائے سودی کہنا ہی درست ہے۔(2)
(ج) اشیاء کی تجارت میں، سوداکرتے وقت جس قیمت پر سودا ہوجائےتو سودے کے بعد فروخت کنندہ کی طرف سے اس طے شدہ قیمت میں اضافہ کرنا جائز نہیں ہوتا ہےجبکہ کائبور ریٹ سے منسلک ہونے کی بناءپر اسلامی بینکوں کی شرح نفع کی تبدیلی کا انکار نہیں کیا جا سکتا،لہذا کائبور ریٹ کو جو بھی بینک منافع کی شرح کا معیار بنائے گا تو اس کے معاملات فاسد ہوں گے اور فاسد معاملات کے منافع سود ہی کے حکم میں ہوتے ہیں، لہذا کائبور کے ساتھ اپنے منافع کو مربوط رکھنے والے اسلامی بینکوں کے معاملات سودہی کے حکم میں ہیں۔(3)
2،3۔اور یہ بات بھی واضح رہے کہ بینک سے قسطوں یا کرائے کا معاملہ کرنے کئی قباحتیں ہیں جن کی وجہ سےبینکوں کے ساتھ یہ معاملات کرنا درست ہی نہیں خواہ کوئی بھی بینک ہو۔
پہلی قباحت یہ ہے کہ بینک سے قسطوں پر خریدتے وقت دو عقد بیک وقت ہوتے ہیں ، ایک عقد بیع کا ہوتاہے جس کی بناپر قسطوں کی شکل میں ادائیگی خریدار پر واجب ہو تی ہے اور اسی کے ساتھ ہی اجارے کابھی معاہدہ ہوتاہے جس کی بناپر ہر ماہ کر ائے کی مد میں بینک خریدار سے کرایہ بھی وصول کرتاہے اور یہ دونوں عقد ایک ساتھ ہی کیے جا تے ہیں جو کہ ناجائز ہے ،یعنی معاہدے کے اندر یہ بات بھی شامل ہوتی ہے کہ جس دن گھر کی مالیت کے بقدر کرایہ پورا ہوجائے گا تواس کے بعد یہ گھر بینک سےکرایہ پر لینے والے شخص کی ملکیت میں آجائے گا،تواس طرح ایک ہی وقت میں دو معاملے پائے گئے،جو کہ شرعاً نا جائز ہے،کیونکہ شرعاً ایک معاملہ ختم ہونے سے پہلے دوسرا معاملہ نہیں کیا جاسکتا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔(4)
دوسری خرابی یہ ہے کہ ’’کائی بور‘‘ کے ریٹ کی وجہ سے اصل قیمت میں کمی زیادتی ہو تی ہےجس کہ تفصیل اوپر بیان ہو چکی ہے۔
تیسری قباحت یہ ہے کہ بینک سے خریدنے والے اور بینک کے درمیان معاہد ہ کے تحت دو عقد ہوتے ہیں ، ایک بیع(خرید وفروخت )اور دوسرا اجارہ(کرایہ داری )کا عقدہوتاہے ، اور یہ طے پاتاہے کہ اقساط میں سے اگر کو ئی قسط وقتِ مقررہ پر جمع نہیں کرائی گئی تو خریداربینک کی جانب سے مقررہ جرمانہ اداکرنے کا پابند ہوگا جوکہ شرعاً جائزنہیں ہے ۔(5)
4۔اور تاخیر ادائیگی کی صورت میں اسلامی بینک جو مالی جرمانہ لگاتے ہیں ، یہ شرعاً ناجائز ہے، یہ جرمانہ صدقہ کا نام دینے کے باوجود سود ہی کے حکم میں ہے،جسے قرض خواہ، قرض دہندہ ادارے کے ضوابط کے التزام کی وجہ سے ادا کرنے کا پابند ہوتا ہے،جس کے سود ہونے کے علاوہ کوئی اور توجیہ کرنا ممکن نہیں۔(5)
1۔بدائع الصنائع میں ہے:
"ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا؛ لأنها فضل لا يقابله عوض، والتحرز عن حقيقة الربا وعن شبهة الربا واجب، هذا إذا كانت الزيادة مشروطة في القرض."
(كتاب القرض، فصل في شرائط ركن القرض،395/7، ط: دارالكتب العلمية)
فتح القدیر میں ہے:
"(ولنا أنه مال الربا نظرا إلى القدر أو الجنس و) عرف أن (النقدية أوجبت فضلا في المالية) حتى تعورف البيع بالحال بأنقص منه بالمؤجل (فتتحقق) بوجوده (شبهة) علة (الربا) فتثبت شبهة الربا (وشبهة الربا مانعة كحقيقة الربا) بالإجماع على منع بيع الأموال الربوية مجازفة وإن ظن التساوي وتماثلت الصبرتان في الرؤية وليس فيه إلا شبهة ثبوت الفضل، بل قالوا: لو تبايعا مجازفة ثم كيل بعد ذلك فظهرا متساويين لم يجز عندنا۔۔۔وإنما قلنا هذا لأن مقتضى ما ذكر من أن للشبهة حكم الحقيقة أن يحرم بأحد الوصفين التفاضل أيضا، لأن لشبهة العلة حكم العلة فيثبت به شبهة حكم العلة وحكم العلة هو حرمة التفاضل والنساء فيثبت فيهما، ثم يقدم هذا الحديث على حديث البعير ببعيرين لأنه محرم وذلك مبيح، أو يجمع بينهما بأن ذلك كان قبل تحريم الربا."
(باب الربا، ج:7، ص:12، ط:دار الفكر، بيروت)
2۔فتاویٰ شامی میں ہے:
"والبيوع الفاسدة فكلها من الربا."
(كتاب البيوع، باب الربا، ج:5، ص:169، ط:سعيد)
وفيه ايضاً:
"وسيأتي أنه معصية يجب رفعها، وسيأتي في باب الربا أن كل عقد فاسد فهو ربا، يعني إذا كان فساده بالشرط الفاسد."
(کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج:5، ص:49، ط:سعید)
3۔فتاوی ہندیہ میں ہے :
"وإذا زاد في الثمن لا بد أن يقبل الآخر في المجلس حتى ولو لم يقبل وتفرقا بطلت، كذا في الخلاصة."
(کتاب البیوع،الباب السادس عشر فی الزیادۃ فی الثمن ،ج:3،ص:171،دارالفکر)
4۔حدیث شریف میں ہے :
"عن أبي هريرة قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيعتين في بيعة."
(سنن ترمذی، ابواب البیوع ،ج:3، ص:525، ط:مصطفی بابی الحلبی )
5۔فتاویٰ شامی میں ہے:
"قوله: (لا بأخذ مال في المذهب) قال في الفتح: وعن أبي يوسف يجوز التعزير للسلطان بأخذ المال وعندهما وباقي الأئمة لا يجوز اه، ومثله في المعراج وظاهره: أن ذلك رواية ضعيفة عن أبي يوسف. قال في الشرنبلالية : ولا يفتى بهذا لما فيه من تسليط الظلمة على أخذ مال الناس فيأكلونه اه، ومثله في شرح الوهبانية عن ابن وهبان قوله (وفيه الخ) أي: في البحر حيث قال: وأفاد في البزازية: أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عند مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي."
(كتاب الحدود، باب التعزير، مطلب في التعزير بأخذ المال، ج:4، ص:16،ط: سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144702100139
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن