بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ربیع الاول 1448ھ 23 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

اجتماعی رقم بچ جائے


سوال

تبلیغی  جماعت والے عموما اجتماعی پیسے جمع کرتے ہیں کبھی ہزار کبھی 500، تو کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کوئی بندہ جماعت والوں کے لیے کھانا بنوا دیتا ہے کبھی رقم دے دیتا ہے اسی طرح دیگر اجتماعات میں بھی ہوتا ہے  جب جماعت کا وقت پورا ہو جاتا ہےتو ان  اجتماعی پیسوں کا کیا حکم ہے؟ کیونکہ بعض اوقات ایسا  بھی ہوتا ہے کہ بعض ساتھی زائد رقم جمع کرواتے ہیں  اور اس کا علم بھی نہیں  کہ کس نے کتنے پیسے جمع کروائے ہیں اگر  علم میں بھی ہے ان میں بھی ہے کہ جس جس  نے  زیادہ  پیسے  جمع کروائے  ہیں مثلا  1500 ہیں  اور  جس  نے کم جمع کروائے ہیں ہزار روپے ہے۔ اب اس کا کیا حکم ہے ؛کیونکہ اجتماعی پیسے میرے پاس موجود ہے

جواب

جماعت میں نکل کر  یا اجتماعات وغیرہ میں جو رقم اجتماعی   خرچ کے لئے جمع کی جاتی ہےیا کوئی ساتھی اکرام کے لئے رقم دیتا ہے   اس کا حکم امانت کا ہے ،اس میں سے جو رقم آخر میں بچ جائے اس کا ہر ایک کو واپس کرنا لازم ہے،ان کی اجازت کے بغیر کسی بھی مصرف میں استعمال کرنا شرعا جائز  نہیں ہے،بہتر یہ ہے کہ جمع کرتے وقت تمام رفقاء سفر سے  بچ جانے والی رقم سے متعلق اجازت لے لی جائے۔اگر کم زیادہ رقم لی جارہی ہے تو اس کی بھی وضاحت لی جائے۔

لہذا صورت مسئولہ  میں  جب سائل کے پاس اجتماعی رقم بچ گئی ہے تو  سائل   رقم دینے والے جماعت کے ساتھیوں  سے رابطہ کرکے ان کی رقم واپس کرے  یا ان سےکسی اور مصرف  میں استعمال کی  اجازت  لے کر  اس مصرف میں استعمال کرلے،اگر حتی الوسع  ذرائع استعمال کرنے کے باوجود  کسی کا   پتہ نہ چلے تو    اس رقم کو اس کے اصل مالک کی طرف سے صدقہ کر دیا جائے، البتہ صدقہ کر دینے کے بعد اگر اصل مالک لوٹ آئے   ور وہ صدقہ پر راضی ہو تو ٹھیک  اور اگر اپنی رقم کا مطالبہ کرے تو  اُس کے مطالبہ پر اس کی رقم واپس کرنا لازم ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"لا یجوز التصرف في مال غیرہ بلا إذنہ ".

( کتاب الغصب ، مطلب فیما یجوز من التصرف بمال الغیر،200/6،سعید)

فتاوی شامی  میں ہے:

"(عليه ديون ومظالم ‌جهل ‌أربابها وأيس) من عليه ذلك (من معرفتهم فعليه التصدق بقدرها من ماله وإن استغرقت جميع ماله) هذا مذهب أصحابنا لا تعلم بينهم خلافا كمن في يده عروض لا يعلم مستحقيها اعتبارا للديون بالأعيان (و) متى فعل ذلك (سقط عنه المطالبة) من أصحاب الديون.(قوله: ‌جهل ‌أربابها) يشمل ورثتهم، فلو علمهم لزمه الدفع إليهم؛ لأن الدين صار حقهم."

(كتاب اللقطة، ج:4، ص:283، ط:سعيد)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144612101409

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں