
اگر کوئی شخص جدہ سے طائف، مدینہ منورہ یا کسی اور ایسے شہر کی طرف روانہ ہو جو میقات سے باہر واقع ہے (یعنی جہاں پہنچنے کے لیے شرعاً احرام باندھنے کی پابندی نہیں)، لیکن اس کا راستہ مکہ مکرمہ کے حدودِ حرم سے گزرتا ہے، تو درج ذیل صورتوں میں اس شخص کے لیے کیا حکم ہے:
1۔اگر وہ شخص جان بوجھ کر ایسا راستہ اختیار کرتا ہے جو مکہ مکرمہ کے حدودِ حرم میں داخل ہوتا ہے، جب کہ اس کے پاس اختیار موجود ہے کہ وہ کسی دوسرے راستے سے جائے جو حرم کی حدود میں داخل نہ ہوتا ہو، تو کیا اس صورت میں اس پر احرام باندھنا لازم ہوگا؟اگر بغیر احرام کے اس نے سفر کیا اور حدودِ حرم میں داخل ہوا، تو کیا اس پر کوئی دم یا کفارہ لازم ہوگا؟
2۔اگر اس شخص کے پاس دوسرے راستے سے جانے کا اختیار نہ ہو، مثلاً: وہ ہوائی جہاز میں ہے اور راستہ لازماً مکہ مکرمہ کے حدود سے گزرتا ہے۔ یا حکومتی/سرکاری ٹرانسپورٹ کا وہی متعین راستہ ہے جو حدودِ حرم سے ہو کر گزرتا ہے، اور مسافر کو اختیار نہیں کہ وہ راستہ بدلےتو ایسی صورت میں کیا اس پر احرام باندھنا لازم ہوگا؟ اگر اس نے احرام نہیں باندھا، تو کیا اس پر کوئی دم یا کفارہ لازم ہوگا؟ آیا وہ معذور شمار ہوگا یا نہیں؟ براہ کرم شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں وضاحت فرما کر عند اللہ ماجور ہوں۔
واضح رہے کہ"میقات"سے گزرنے والے شخص پر میقات سے پہلے احرام باندھنا اس وقت ضروری ہے جب اس کا ارادہ حرم جانے کا ہو، اگر کسی شخص کا ارادہ حرم کا نہ ہو، بلکہ حل یا آفاق جانے کا ہو، اور اسے میقات کے اندر سے گزرنا پڑے تو اس پر احرام باندھنا ضروری نہیں ہوتا۔
لہذا صورت ِ مسئولہ میں اگر کوئی شخص میقات سے باہر کسی جگہ جانا چاہتا ہو مکہ یا حرم جانے کا ارادہ نہ ہو اور اس جگہ کا راستہ میقات کے اندر سے ہوکر گزرتا ہو تو میقات سے بغیر احرام گزرنے سے دم لازم نہیں ہوگا،خواہ اس جگہ جانے کے لیے صرف وہی راستہ استعمال ہوتا ہو یا اس کے علاوہ اور متبادل کوئی دوسرا راستہ بھی موجود ہو۔
بدائع الصنائع میں ہے :
"هذا إذا جاوز أحد هذه المواقيت الخمسة يريد الحج أو العمرة أو دخول مكة أو الحرم بغير إحرام، فأما إذا لم يرد ذلك، وإنما أراد أن يأتي بستان بني عامر أو غيره لحاجة فلا شيء عليه؛ لأن لزوم الحج أو العمرة بالمجاوزة من غير إحرام لحرمة الميقات تعظيما للبقعة وتمييزا لها من بين سائر البقاع في الشرف والفضيلة، فيصير ملتزما للإحرام منه، فإذا لم يرد البيت لم يصر ملتزما للإحرام فلا يلزمه شيء."
(كتاب الحج،فصل بيان مكان الإحرام،ج:2،ص:166،مطبعة شركة المطبوعات العلمية بمصر)
تحفۃ الفقہاء میں ہے :
"وكذلك إن كان من أهل الحرم وأهل الحل من داخل هذه المواقيت إذا خرج إلى الآفاق للتجارة ثم رجع فحكمه حكم أهل الآفاق لا يجوز له مجاوزته إلا محرما إذا قصد مكة إما الحج أو العمرة
فأما إذا قصدوا بالمجاوزة السكنى في بستان بني عامر الذي هو داخل المواقيت خارج الحرم فإنه يباح لهم المجاوزة من غير إحرام وهي الحيلة في إسقاط الإحرام."
(كتاب المناسك،باب الإحرام،ج:1،ص:394،دارالكتب العلمية)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144612101034
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن