
میری والدہ نے میرا نام احمد رکھا تھا، لیکن ان کی خواہش میرا نام محمد احمد رکھنے کی تھی جو اس لیـے پوری نہ ہوسکی کہ میرا پورا نام سید احمد جاوید تھا اور میرے محترم والد صاحب کی نظر میں محمد لگانے سے مزید طویل ہورہا تھا،اور ان کے اس خیال کا سبب غالباً یہ تھا کہ اس سے شناختی دستاویزات وغیرہ میں کوئی مشکل ہوسکتی ہے۔ اس قصہ کے کئی سال بعد میری والدہ نے نام میں محمد کا اضافہ کرنےکا اسرار کیا تو والد صاحب کا کہنا تھا کہ برتھ سرٹیفکیٹ اور ب فارم وغیرہ میں تبدیلی مزید مشکل ہے اور دستاویزی معاملات میں تضاد جیسی پریشانی جھیلنی پڑسکتی ہے۔ جب میں بالغ ہوا اور الله تبارک وتعالیٰ کے فضل و کرم سے تھوڑا سا شعور بیدار ہوا تو سرور دو عالم فداہ امی وابی سیدنا رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے اسماء مبارک "احمد" کے اور "محمد" کی بھی فضیلت سے آگاہ ہوا تو میں اپنا نام سید محمد احمد جاوید رکھنا چاہتا ہوں لیکن میرا سوال ہے کہ نام بدلنے کی تعریف کیا یہی ہے کہ بس سب کو یہ بتا دیا جائے کہ میرا مکمل نام اب سے یہ ہوگا، یا پھر شناختی کارڈ و دیگر دستاویزات میں تبدیلی ضروری ہے؟
واضح رہے کہ نام میں" محمد" کا اضافہ کرنا نہ صرف جائز ہے،بلکہ باعث خیر وبرکت بھی ہے، لہذا سائل کا اپنے نام میں یہ اضافہ درست ہے،باقی اس تبدیلی کا اپنی تمام احباب کو اطلاع دی جائے تو بہتر ہوگا،تاکہ سائل کا معاشرے میں ایک نئے نام کے ساتھ تعارف ہو سکے،اور جہاں تک بات دستاویزات میں تبدیلی کی ہے تو وہ شرعاً ضروری نہیں ،لیکن اگر ممکن ہو تو بہتر یہی ہے کہ دستاویزات میں بھی نام تبدیل کرایا جائے، تاکہ قانونی پیچیدگیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144611102350
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن