بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ربیع الاول 1448ھ 24 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

تصاویر اور بائبل کی آیات پر مشتمل کلینڈر کی ڈیزائننگ کا حکم


سوال

میں ایک مسلمان ہوں اور ایک ڈیجیٹل مارکیٹنگ و ڈیزائننگ کمپنی چلاتا ہوں،حال ہی میں ایک عیسائی کلائنٹ نے ہم سے ایک کیلنڈر ڈیزائن کروانے کی درخواست کی ہے،جس میں تاریخی عیسائی مذہبی رہنماؤں (جیسے مارٹن لوتھر وغیرہ) کی تصاویر، ان کے اقوال، اور کچھ بائبل کی آیات شامل ہوں گی، میں جانتا ہوں کہ کسی اور مذہب کی تبلیغ یا ترویج کرنا شریعت میں جائز نہیں ہے، تاہم اس معاملے میں کچھ باتیں وضاحت کے لیے عرض کرنا چاہتا ہوں: ہمارا مقصد ان کے عقائد کی ترویج یا تبلیغ ہرگز نہیں ہے، ہم یہ کام صرف تجربہ حاصل کرنے اور پیشہ ورانہ مہارت سیکھنے کے لیے کرنا چاہتے ہیں۔

اس کام سے حاصل ہونے والی تمام آمدنی اللہ کی راہ میں صدقہ کی جائے گی (جیسے غریبوں کی مدد یا کسی اسلامی فلاحی کام میں استعمال)۔ ہم اس کیلنڈر میں کسی بھی ایسے مواد سے اجتناب کریں گے جو اسلام کے عقائد سے متصادم ہو یا گمراہی پھیلائے۔  براہ کرم راہنمائی فرمائیں کہ کیا ایسے حالات میں یہ کام کرنا شرعاً جائز ہوگا؟ 

جواب

کسی مسلمان کے لیے ایسی چیز بنانا اور ڈیزائن کرنا جو غیر اسلامی عقائد و نظریات اور جاندار کی تصاویر پر ہو مشتمل ہو شرعًا جائز نہیں ہے،اس سے حاصل ہونے والی آمدنی حرام ہے، نیز صدقہ کردینے کی نیت سے بھی حرام کمانا جائز نہیں ہے،لہذا سائل حرام کام میں اپنی محنت صرف کرنے کے بجائےکسی اور چیز کی ڈیزائننگ کے ذریعے اپنے تجربے اور پیشہ وارانہ صلاحیت میں اضافہ کرلے ،البتہ ایسی چیز کی ڈیزائننگ جو غیر شرعی مواد اور جاندار کی تصاویر پر مشتمل نہیں ہو جائز ہے،اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی حلال ہے،اگرچہ کسی غیر مسلم کے لیے کی جائے۔

قرآن کریم میں ہے:

"{ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللّٰهٰ إِنَّ اللّٰهٰشَدِيدُ الْعِقَابِ}[المائدۃ: 2]"

"ترجمہ:  اور گناہ  اور زیادتی میں  ایک  دوسرے  کی اعانت مت کرو ، اور اللہ تعالیٰ سے ڈرا کرو ، بلاشبہ  اللہ تعالیٰ  سخت سزا دینے والے ہیں۔(از بیان القرآن)"

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"عن جابر: (أن عمر بن الخطاب رضي الله عنهما أتى رسول الله صلى الله عليه وسلم بنسخة من التوراة فقال يا رسول الله هذه نسخة من التوراة فسكت فجعل يقرأ ووجه رسول الله يتغير فقال أبو بكر ثكلتك الثواكل ما ترى ما بوجه رسول الله صلى الله عليه وسلم فنظر عمر إلى وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال أعوذ بالله من غضب الله وغضب رسوله صلى الله عليه وسلم رضينا بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد نبيا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " والذي نفس محمد بيده لو بدا لكم موسى فاتبعتموه وتركتموني لضللتم عن سواء السبيل ولو كان حيا وأدرك نبوتي لاتبعني)رواه الدارمی."

(‌‌باب الاعتصام بالكتاب والسنة، الفصل الثالث، ج:1، ص:51، ط:المكتب الإسلامي)

وفي مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح:

"وفي الحديث نهي بليغ عن العدول من الكتاب والسنة إلى غيرهما من كتب الحكماء والفلاسفة (رواه الدارمي)."

 (كتاب الايمان، باب الاعتصام بالكتاب والسنة، ج:1، ص:277،1، ط:دار الفكر)

فتاوی شامی میں ہے:

وأما فعل التصوير فهو غير جائز مطلقا لأنه مضاهاة لخلق الله تعالى كما مر."

(كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة و يكره فيها، ج:1، ص:650، سعيد)

جواہر الفتاوی میں ہے:

"جیسا کہ تصاویر کا چھاپنا، رکھنا ناجائز ہے، اس طرح احتراما، تلذذا (مزہ لینے کے لیے) انہیں دیکھنا بھی ناجائز و حرام ہے یہ حکم عام جاندا رکی تصویر سے متعلق ہے۔"

(ج نمبر 3، ص :64، ط:اسلامی کتب خانہ)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

"حرام مال کا صدقہ "

سوال [۲۷۳۹] : زنا کار مرد و عورت نماز پڑھتے ہیں، روزہ رکھتے ہیں، یا نارچ با جا، سارنگی طبلہ ڈھولک مجیرا، ہارمونیم سے کماتے ہیں اور اچھے کاموں میں خرچ کرتے ہیں ایسے لوگوں کے لئے کیا حکم ہے؟ 

الجواب حامداً ومصلياً:  حرام مال اللہ پاک کی بارگاہ میں قبول نہیں، بنیت ثو اب حرام مال کو صدقہ کرنا بھی سخت گناہ اور خطرناک ہے۔"

(کتاب الزکات، باب الصدقات النافلۃ، ج:9،ص:646، ط:جامعہ فاروقیہ کراچی)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144611102023

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں