
ہمارے شہر میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر بڑی تعداد میں قربانیاں کی جاتی ہیں، اور ان کا گوشت غریبوں میں تقسیم کیا جاتا ہے، بعض اہل خیر دینی مدارس کے طلبہ کے لیے بھی قربانی کا گوشت بطور عطیہ دیتے ہیں، مدارس کی انتظامیہ اس گوشت کو محفوظ رکھتی ہے اور سال بھر طلبہ کے کھانے میں استعمال کرتی ہے۔
واضح رہے کہ مدرسہ طلبہ سے کھانے کے اخراجات کے لیے روزانہ یا ماہانہ ایک مخصوص رقم وصول کرتا ہے، اس صورتِ حال میں سوال یہ ہے کہ کیا مدرسہ انتظامیہ کے لیے شرعاً یہ جائز ہے کہ وہ طلبہ کو قربانی کا گوشت کھلائے اور ان سے کھانے کے مد میں پوری رقم بھی لیتا رہے؟ اس معاملے میں قرآن و سنت کی روشنی میں راہنمائی فرمائیں۔
عید الاضحی کے موقع پر اہلِ خیر حضرات مدارس کے طلبہ کے لیےجو قربانی کا گوشت دیتے ہیں چونکہ وہ طلبہ ہی کے لیے بطورِ عطیہ آتا ہے اس لیے مدرسہ انتظامیہ کے لیے شرعاً یہ جائز نہیں کہ وہ طلبہ کو قربانی کا گوشت کھلانے پر گوشت کے مقابلہ میں جو رقم آرہی ہو وہ وصول کریں، البتہ ان دنوں میں مدرسہ انتظامیہ کھانے کے دیگر اخراجات (مثلاً روٹی، مصالحہ جات، پکوائی، گیس وغیرہ) کے بقدر رقم طلبہ سے وصول کر سکتی ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"صرحوا بأن مراعاة غرض الواقفين واجبة."
(کتاب الوقف مطلب مراعاۃ غرض الواقفین واجب، ج:4، ص: 445، ط:سعيد)
فيه أيضاً:
"شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم والدلالة."
(كتاب الوقف، مطلب في قولهم شرط الواقف كنص الشارع، ج:4، ص:433، ط:سعيد)
البحرالرائق میں ہے:
"وجوب اتباع شرط الواقف على الناظر."
(كتاب الزكاة، باب مصرف الزكاة، دفع الزكاة بتحر فبان أنه غني أو هاشمي أو كافر أو أبوه أو ابنه، ج:2، ص:266، ط:دار الكتاب الإسلامي)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144611100480
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن