
کیا شادی کے لیے زائچہ نکلوانا جائز ہے؟
واضح رہے کہ اعداد کے ذریعہ ایسا کام لینا جیساکہ علمِ نجوم میں لیاجاتاہے، جیسے فال نکالنا، زائچے بناکر کسی کے حالات معلوم کرنا اور اس پر یقین کرنا ناجائز اور حرام ہے۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں شادی کے لیے زائچہ نکلواناشرعاً درست نہیں ہے۔
مرقاة المفاتيح ميں هے:
"4595 - وعن حفصة رضي الله عنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " «من أتى عرافا فسأله عن شيء لم تقبل له صلاة أربعين ليلة» ". رواه مسلم.
(العارف) ، قال الجوهري: هو الكاهن والطبيب، وفي المغرب: هو المنجم، وهو المراد في الحديث ذكره بعض الشراح. قال النووي: العراف من جملة أنواع الكهان. قال الخطابي وغيره: العراف هو الذي يتعاطى معرفة مكان المسروق ومكان الضالة ونحوهما. (فسأله عن شيء) أي: على وجه التصديق بخلاف من سأله على وجه الاستهزاء أو التكذيب، وأطلق مبالغة في التنفير عنه، والجملة احتراز عمن أتاه لحاجة أخرى. ۔۔۔۔ قال النووي: وأما عدم قبول صلاته فمعناه أنه لا ثواب له فيها، وإن كانت مجزئة في سقوط الفرض عنه، ولا يحتاج معها إلى إعادة، ونظير هذا الصلاة في الأرض المغصوبة مجزئة مسقطة للقضاء، ولكن لا ثواب له فيها، كذا قاله جمهور أصحابنا."
(كتاب الطب والرقی، باب الکھانة، ج:7 ص:2905، ط:دار الفكر، بيروت)
آپ کے مسائل اور ان کا حل میں ہے:
”سوال .... آج کل نئے دور میں شادی کے لئے جس طرح ہندو پنڈت جنم کنڈ لی ملاتے ہیں، ہمارے مسلمان بھائی بھی اسی طرح کی رسم کو اختیار کرتے ہوئے ستارہ ملاتے ہیں، یعنی لڑکے کی ماں اور لڑکے کے نام لڑکی کی ماں اور لڑکی کے نام کے اعداد نکال کر ضرب، جمع تقسیم ، تفریق کرتے ہیں۔ ایسا کرنے والوں کے لئے اسلام میں کیا حکم ہے؟
جواب ... اسلام نہ ستاروں کی تأثیر کا قائل ہے، اور نہ علم نجوم پر اعتماد کرنے کا قائل ہے، لہذا مسلمانوں کے لئے یہ عمل جائز نہیں ۔ قسمت کا حال اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معلوم نہیں ، اللہ تعالیٰ کی ذات عالی پر اعتماد کر کے اس کے حکم کے مطابق کام کیا جائے تو برکت ہوتی ہے، سکون نصیب ہوتا ہے اور اللہ تعالی راحت و اطمینان کی زندگی نصیب فرماتے ہیں۔ اور جو شخص اعتماد علی اللہ کے مضبوط حلقے کو چھوڑ کر ستاروں اور نجومیوں سے اپنی قسمت وابستہ کرے، وہ ہمیشہ بے چین وبے سکون رہے گا۔ “
(کتاب الحظر والاباحۃ، توہم پرستی، ج:2، ص:540، ط:مکتبۂ لدھیانوی)
فتاوی محمودیہ میں ہے:
”علم جفر کی نہ قرآن کریم نے تعلیم دی، نہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے تعلیم دی، نہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے اس کو سیکھا ، نہ محدثین نے اس کی طرف توجہ دی ، نہ فقہاء اور اولیائے کرام نے اس کو قابل التفات سمجھا ، بلکہ کتب فقه : الأشباه والنظائر ، و در مختار وغیرہ میں اس کے سیکھنے کو منع کیا ہے۔
یہ شرعی حجت نہیں ۔۔۔۔۔ اس علم کے ذریعہ بہت سی چیزیں سامنے آجاتی ہیں ، جنات اور شیاطین سے بہت سی چیزیں معلوم کی جاسکتی ہیں، مگر یہ سب چیزیں بالکل لغو اور ہیچ ہیں ۔ جو گی اور پنڈت بھی ہاتھ دیکھ کر بعض صرف صورت دیکھ کر ، بعض نام سن کر بہت کچھ بتانے والے آج بھی موجود ہیں ، بعض مسلمان بھی یہ سب کچھ بتا دیتے ہیں ، مگر ان کی نسبت صحابہ کرام کی طرف کرنا غلط ہے، ان اکابر نے نہ جفر سیکھااور نہ سکھایا، نہ اس طرف توجہ کی۔فقط واللہ اعلم“
(کتاب الحظر والاباحۃ، باب ما یتعلق بالسحر والعوذۃ، ص:83 تا 85، ط:ادارۃ الفاروق)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144611100354
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن