
ہمارے علاقے میں اکثر لوگوں کا تکیہ کلام "طلاق" بن چکا ہے ، بات بات پر طلاق طلاق کہتے ہیں ، مثلا: ہوٹل میں دو دستوں میں کوئی ایک پیسہ دےرہا ہو ، دوسرا کہتا ہے کہ طلاق ہے آپ پیسہ دو، اس طرح ایک دوسرے کا اکرام کرنے چاہ رہا ہو وہ کسی عذر کی وجہ سے قبول نہ کرے تو اکرام کرنے والا کہہ دیتا ہے کہ " طلاق ہے کہ آپ بغیر اکرام کے جاؤ" شرعی حکم سے مطلع فرمائیں۔
طلاق اگرچہ اسلام میں جائز ہے، لیکن یہ ناپسندیدہ عمل ہے۔ حدیثِ شریف میں ہے:"أبغض الحلال إلى الله عز وجل الطلاق"یعنی "اللہ کے لئے حلال چیزوں میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ طلاق ہے"۔طلاق سے نہ صرف میاں بیوی کا رشتہ ختم ہوتا ہے بلکہ اس سے خاندان اجڑ جاتاہے۔اور اسی طرح لفظِ طلاق کو مذاق یا فضول بات میں استعمال کرنا درست نہیں ہے۔البتہ وقوع طلاق کےلئے بیوی کی طرف نسبت کرنا کرنا ضروری ہےجو ان جملوں میں نہیں پائی جاتی۔ لہذاصورتِ مسئولہ میں مذکورہ جملوں سے طلاق واقع نہیں ہوگی ، البتہ ایسے کلام سے اجتناب ضروری ہے، ذرا سی بے احتیاطی سے خاندان اجڑ سکتے ہیں۔
سنن أبی داود میں ہے:
"عن ابن عمر، عن النبي - صلى الله عليه وسلم - قال: أبغض الحلال إلى الله عز وجل الطلاق."
(کتاب: طلاق، باب: کراہیۃ الطلاق، ج: 3، ص: 505، رقم الحدیث: 2178، ط: دار الرسالة العالمية)
فتاوی شامی میں ہے :
" (قوله أو لم ينو شيئا) لما مر أن الصريح لا يحتاج إلى النية، ولكن لا بد في وقوعه قضاء وديانة من قصد إضافة لفظ الطلاق إليها عالما بمعناه."
(کتاب: طلاق، باب: صريح الطلاق، ج: 3، ص: 250، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144611100093
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن