
ہماری مسجد اور مدرسہ میں دو الگ الگ اکاؤنٹ ہیں، مسجد کے اکاؤنٹ سے مسجد کے اسٹاف کی تنخواہیں اور مسجد کے ضروری کام وغیرہ کے لیے اخراجات کیے جاتے ہیں اور اسی طرح مدرسہ کے اکاؤنٹ سے مدرسہ کے اسٹاف کی تنخواہیں اور ضروری کام وغیرہ کیے جاتے ہیں، ہماری پاس مسجد کی آمدنی زیادہ ہے اور مدرسہ کی آمدنی کم ہے؛ جس کی وجہ سے ہم مسجد کے اکاؤنٹ سے کچھ رقم لے کر مدرسہ کے اکاؤنٹ میں شامل کرتے ہیں۔
کیا ہم مسجد مدرسے کے اکاؤنٹ کو یکجا کر سکتے ہیں؟ اور مسجد مدرسہ کے اخراجات کر سکتے ہیں ،اس سلسلے میں مسجد انتظامیہ نے جنرل باڈی کے اجلاس میں تمام نمازیوں سے اس بات کی اجازت اور منظوری لے لی ہے کہ مسجد کے اکاؤنٹ سے مدرسہ کے اکاؤنٹ میں رقم ٹرانسفر کر لی جائے، اس پر تمام حاضرین نمازی حضرات نے اس کی منظوری دے دی۔
میرا سوال یہ ہے کہ اس سلسلہ میں شریعت کا کیا حکم ہے ہمارا یہ عمل درست ہے یا نہیں ہے اس میں کوئی تبدیلی بہتری کی جاسکتی ہے؟
مسجد کے لیے دیے گئے چندے کا مصرف مسجد کی ضروریات اور مسجد کے مصالح ہیں، لہذا مسجد کے چندے کو مدرسہ کی ضروریات میں استعمال کرنا شرعا جائز نہیں ہوگا، البتہ اگر چندہ دہندگان سے پیشگی اجازت لے لی جائے کہ یہ تعاون مسجد اور مدرسہ دونوں کے لیے ہے تو پھر یہ رقم مدرسہ کی ضروریات (استاذ کی تنخواہ وغیرہ) میں بھی صرف کی جاسکتی ہے؛لھذا سوال میں ذکر کردہ صورت میں جب مسجد انتطامیہ نے نمازیوں سے اس بات کی باقاعدہ منظوری لے لی اور تمام حاضرین نمازی حضرات نے اس کی منظوری دے دی تو اب جمع شدہ چندہ مسجد مدرسہ دونوں کی ضروریات میں استعمال کیا جاسکتا ہے اور یہ رقم ایک اکاؤنٹ میں یک جا رکھی جاسکتی ہےاور بہتر یہ ہے کہ مسجد و مدرسہ کے اخراجات کے سلسلے میں تعاون کے لئے اگر اعلانات ہوتے ہیں تو اس میں اور جو مسجد میں بکس ہوتے ہیں اور جو رسید دی جاتی ہے اس میں بھی اس بات کی وضاحت کردی جائے ۔
فتاوی شامی میں ہے:
"قال الخير الرملي: أقول: ومن اختلاف الجهة ما إذا كان الوقف منزلين أحدهما للسكنى والآخر للاستغلال فلا يصرف أحدهما للآخر وهي واقعة الفتوى. اهـ."
( کتاب الوقف، مطلب في نقل انقاض المسجد ونحوہ: ج:4،ص:361 ط: سعید)
وفیه أیضا:
"على أنهم صرحوا بأن مراعاة غرض الواقفين واجبة، وصرح الأصوليون بأن العرف يصلح مخصصًا."
(کتاب الوقف، مطلب مراعاۃ غرض الواقفین: ج: 4،ص: 445 ط:سعید)
فتاوٰی دار العلوم زکریا میں ہے:
”جو رقم مسجد کے لیے جمع کی جاتی ہے اس میں مدرسہ کے مدرسین کی تنخواہیں دینا درست نہیں ہے،ہاں جن حضرات سے چندہ وصول کیا جاتا ہے ان کے پاس ایک تحریر بھیج دیں کہ آپ کا چندہ مسجد کے علاوہ مدرسہ اور اس کے مدرسین پر بھی خرچ کیا جائے گا، اس پر دستخط کردیں یا زبانی ان سے بات کر لی جائے یا مسجد میں اعلان کر دیا جائے، پھر اس رقم کو مسجد کے علاوہ مدرسہ میں خرچ کرسکتے ہیں“
(کتاب الطہارۃ: ج:1، ص: 572، ط:زمزم پبلشرز)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144611100036
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن