
میں نے سنا تھا کہ ہمارے اکابر میں سے کسی نے فرمایا تھا کہ "جوائنٹ فیملی فساد کی جڑ ہے"۔ غالباً یہ بات حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے کہی تھی، لیکن مجھے صحیح یاد نہیں۔ میری آپ سے گزارش ہے کہ اگر واقعی کسی نے یہ بات فرمائی ہے تو براہِ کرم بتائیں کہ وہ کون بزرگ تھے اور کس کتاب میں انہوں نے یہ فرمایا ہے؟
ہمارے اکابر میں کسی سے یہ بات ثابت نہیں ہے کہ انہوں نے جوائنٹ فیملی کو فساد کی جڑ کہا ہو۔البتہ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ کی بعض عبارات سے رجحان یہ معلوم ہوتاہے کہ وہ شادی کے بعد بیوی کو الگ رہائش دینےکو پسند فرماتے تھے لیکن یاد رہے کہ جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہنا یا نہ رہنا کوئی شرعی مسئلہ نہیں بلکہ یہ گھریلو انتظامی نوعیت کا مسئلہ ہے، اگر سب مل کر باہمی رضامندی سے ایک ساتھ رہ سکتے ہوں اور آپس میں اختلافات اور فساد کا اندیشہ نہ ہو تو اس طرح ساتھ رہنے میں کوئی حرج نہیں ہے ، اور بعض اعتبار سے یہ اچھا بھی ہے، البتہ اگر اس سے آپس میں محبتیں ، اختلافات میں بدلنے کا اندیشہ ہو تو الگ رہنے کو بھی ترجیح دی جاسکتی ہے، اور بعض اوقات یہ صورت ہی زیادہ بہتر ہوتی ہے، اس میں قوم، خاندان اور مزاجوں کے فرق سے فرق ممکن ہے۔
تحفہ زوجین میں ہے:
"فرمایا خانگی (گھریلو) فسادات سے بچنے کی عمدہ تدبیر یہ ہے کہ ایک گھر میں اکھٹے نہ رہا کریں۔کیونکہ چند عورتوں کا ایک مکان میں رہنا ہی فساد کا سبب ہوتا ہے۔"
(ملفوظات اشرفیہ:ص:37)
"آج کل کی طبیعتوں اور واقعات کا مقتضی تو یہ ہے اگر عورت ساتھ رہنے پر راضی بھی ہو اور علیحدہ رہنے سے سب اعزہ (رشتہ دار)ناخوش بھی ہوں تب بھی مصلحت یہی ہے کہ جدا ہی رکھےاس میں ہزاروں مفاسد کاانسداد،ہزاروں خرابیوں کی روک تھام ہے۔"
(اصلاح ِانقلاب:ج:2، ص:188)
(تحفہ زوجین ،افادات:مولانا اشرف علی تھانوی ،مرتبہ:مفتی زید ندوی ،باب:2،ص:20،16،ط:مکتبہ عمرفاروق شاہ فیصل کالونی کراچی)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144610102164
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن