
عمیس اور ارمیس نام کے معنی کیا ہیں اور کیایہ نام رکھنا جائز ہے؟
عمیس یہ "عمس" سے ہے، اور اس کے مختلف معانی آتے ہیں، مثلا: شدت، سختی، مٹانا، تاریکی، سخت لڑائی وغیرہ، بعض معانی میں اچھی تاویل ممکن ہے، اس لیے یہ نام رکھنا اگرچہ منع نہیں ہے، لیکن اس کے بجائے کوئی اور اچھا، بامعنی نام بالخصوص انبیاء کرام اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ناموں پر نام رکھنا بہتر ہے،اسی طرح "ارمیس"یہ رمس سے ہے جس کے معنی چھپانا،دفنانا،مٹانا،لہذا اس نام کےمعانی کو دیکھتے ہوئے یہ نام بھی نہ رکھا جائے۔
تاج العروس میں ہے:
"العماس، كسحاب: الحرب الشديدة، عن الليث، كالعم يس كأمير. والعماس: أمر لا يقام له، وكل ما لا يهتدي لوجهه عماس، كالعمس، بالفتح، والعموس، كصبور. والعميس، كأمير. يقال: أمر عماس وعموس، أي شديد، وقيل: مظلم لا يدري تمن أين يؤتى له، وكذلك معمس، كمعظم.
وقال أبو عمر و: العميس: الأمر المغطى. والعماس من الليالي: المظلم الشديد الظلمة، وقد عمس وعمس، كفرح وكرم، نقله ابن القطع، الجوهري عمس، بضمتين، وعمس، بالضم."
(16 / 282، فصل العين مع السين، ط: دار الهداية)
تاج العروس میں ہے:
"الرمس: كتمان الخبر، يقال: رمس عليه الخبر رمسا، إذا لواه وكتمه، وقال الأصمعي: إذا كتم الرجل الخبر عن القوم قال: دمست عليهم الأمر، ورمسته، ورمست الحديث: أخفيته وكتمته.
والرمس: الدفن. وقد رمسه يرمسه ويرمسه رمسا، فهو مرموس ورميس: دفنه وسوى عليه الأرض."
(فصل الراء مع السين،ج:16،ص:133،ط:دارالھدایہ)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144609102010
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن