بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ربیع الاول 1448ھ 24 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

گھر کے خرچ کے لیے جمع کی گئی رقم پرزکوٰۃ کا حکم


سوال

میں ٹور اپریٹر کا کام کرتا ہوں ،دو مہینے کام ہوتا ہے اور کبھی کام دو مہینے نہیں ہوتا ،تو جو پچھلے دو مہینوں میں میں نے کمایا ہوتا ہے اسی ہی سے میں اپنے گھر کا خرچ چلاتا ہوں اسی طرح ایک سال گزر گیا ہے ،اور رمضان میں نصاب سے زیادہ میرے پاس پیسے موجود ہیں، جس میں سے مجھے رمضان کا اور اس کے اگے بھی جب تک کام سٹارٹ نہیں ہوتا اپنے گھر کا خرچ چلانا ہے ،اور جو تقریبا چار لاکھ روپے کے قریب رقم میرے پاس موجود ہے، تو کیا اس کے اوپر زکوۃ فرض ہوگی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں گھر کے خرچ کے لیے جمع کی گئی رقم اگر ضرورت سے زائد ہو اور چاندی کےنصاب کے بقدر ہو، یعنی ساڑھے باون تولے چاندی کی مالیت کے برابر  یا اس  سے زائد  ہو اور ضرورت میں خرچ کرنے سے پہلےاس رقم پر سال گزرجائے،تو اس پر  زکوٰۃ فرض ہوگی،البتہ اگر سائل پر کوئی قرض ہو جس کی ادائیگی سائل پر لازم ہوچکی ہو تو قرض کی رقم منہا کرکے اس کے بعدبقدر نصاب رقم باقی رہ جائے تو اس کی زکوٰۃ اداکرنافرض ہے۔

الدرالمختار میں ہے:

"وشرطه) أي شرط افتراض أدائها (حولان الحول) وهو في ملكه (وثمنية المال كالدراهم والدنانير) لتعينهما للتجارة بأصل الخلقة فتلزم الزكاة كيفما أمسكهما ولو للنفقة".

(کتاب الزکوٰۃ،ج2،ص267،ط:دارالفکربیروت)

شامی میں ہے:

"وقال ح إنه الحق فالأولى التوفيق بحمل ما في البدائع وغيرها، على ما إذا أمسكه لينفق منه كل ما يحتاجه فحال الحول، وقد بقي معه منه نصاب فإنه يزكي ذلك الباقي، وإن كان قصده الإنفاق منه أيضا في المستقبل لعدم استحقاق صرفه إلى حوائجه الأصلية وقت حولان الحول، بخلاف ما إذا حال الحول وهو مستحق الصرف إليها، لكن يحتاج إلى الفرق بين هذا، وبين ما حال الحول عليه، وهو محتاج منه إلى أداء دين".

(کتاب الزکوٰۃ،ج2،ص262،ط:دارالفکر بیروت)

بدائع الصنائع میں ہے:

"ومنها أن لا يكون عليه دين مطالب به من جهة العباد عندنا فإن كان فإنه يمنع وجوب الزكاة بقدره حالا كان أو مؤجلا".

(کتاب الزکوٰۃ، الشرائط التي ترجع على من عليه المال،ج2،ص6،ط:دارالکتب العلمیہ)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144609101353

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں