
حدیث میں ہے کہ آخری زمانے میں عورتوں کی تعداد زیادہ ہوگی،ایک مرد کی کفالت میں 50 ،50 عورتیں ہوں گی، حدیث میں اس کی وجوہات بیان نہیں کی گئیں،میرے خیال میں اس بات کو اس زمانے کے لوگوں پر چھوڑ دیا گیا، ہمارے زمانے میں لڑکیوں کی تعداد بڑھنی شروع ہو گئی ہے،مگر اس مسئلے پر کوئی بات کرنے کو تیار نہیں کہ اس کی کیا وجوہات ہیں؟ سائنس اس پر روشنی ڈالتی ہےوہ کہتی ہے کہ: اگر مرد کے جراثیم طاقتور اور عورت کے کمزورہوں گےتو لڑکا پیدا ہوگا،اگر مرد کے جراثیم کمزور اور عورت کے طاقتورہوں گےتو لڑکی پیدا ہوگی،اگر مرد وعورت کے جراثیم طاقت میں برابر ہوں گے تو جڑوا ں بچے پیدا ہوں گے۔
میں نے اس بات پرغور و فکر کیا تو اس نتیجے پر پہنچا کہ اس بات میں ہمارے والدین کا اولادکوتوجہ نہ دینا ہے، اگر والدین اپنے بچوں کو کسی بھی ذریعے سے جنسیات کے بارے میں تعلیم دیں تو میں سمجھتا ہوں کہ 75 فیصد تک اس مسئلے پر قابو پا سکتے ہیں۔
میں نے کچھ بچوں سے انٹرویو لیا ،ہر بچے کو مشت زنی میں گرفتار پایا ،میں نے بچوں کو اس کے نقصانات سے آگاہ کیا، ہر بچے نے ایک ہی بات کہی کہ ہمیں کسی نے سمجھایا ہی نہیں ،بتایا ہی نہیں۔مشت زنی کے نقصانات سے ہر شخص باخبر ہے،مگر کوئی شخص اس پر توجہ دینے کو تیار نہیں،میرے خیال میں والدین ڈرتے ہیں کہ کہیں ان کا بچہ زنا میں نہ پڑ جائے،حالاں کہ اس کا بہترین حل ہے کہ بچے کو شریعت کے بارے میں بتایا جائے۔
سوال یہ ہے کہ کیا اس اہم مسئلے پر بچے سے بات چیت کی جانی چاہیے ؟بچے کی تعلیم و تربیت کی جانی چاہیے؟ جس سے ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے ؟اس مسئلے پر شریعت کیا کہتی ہے؟بچوں کو سمجھایا جائےیا بچوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے؟
بچوں کی تعلیم و تربیت کے سلسلے میں والدین کی ذمہ داری ہے کہ اپنے بچوں کو بچپن سے اسلامی تعلیم وتربیت دیں،لڑکوں سے متعلق راہ نمائی والد اور لڑکیوں سے متعلق راہ نمائی والدہ کریں، اور یہ راہ نمائی عرفی جنسی تعلیم کے عنوان اور اسلوب سے نہ ہو، بلکہ اعتدال کے ساتھ ضروری شرعی احکام کی راہ نمائی ہو، اسی کے ضمن میں ان کی صحت، و جوانی وغیرہ کے تحفظ کے مقاصد بھی حاصل ہوجائیں گے ، نیز جنسی تعلیم کا جو رائج مفہوم سمجھا جاتا ہے، اس میں بہت سی باتیں شرعًا بے حیائی اور حرام کے زمرے میں آتی ہیں، ان باتوں کی تعلیم سے اجتناب ضروری ہے، الغرض شرعی احکام و اصول کے دائرے میں رہ کر اعتدال کے ساتھ ضروری شرعی تعلیم ہو۔اولاد کی تربیت کےحوالے سےبنیادی تعلیمات یہ ہیں:
جب بچے سمجھ داری کی عمر کو پہنچ جائیں توانہیں قرآن کریم اور سیرت نبویہ کی تعلیم دی جائے، جب بچے دس سال کےہو جائیں تو ان کے بسترالگ کردئیے جائیں، انہیں مخلوط مجالس اور محفلوں میں جانے سے روکا جائے، انہیں استیذان(کسی کے کمرے یا نجی رہائش گاہ میں داخل ہونے سے پہلےاجازت لینے) کےآداب بتائے جائیں، محارم اور غیر محارم کون کون ہیں؟ یہ بتایا جائے، ان کے ساتھ ملاقات کے آداب اور حدود بتائی جائیں، استنجاء، وضو ، غسل کا طریقہ اور وضو اور غسل کو واجب کرنے والی اشیاء بیان کی جائیں، انہیں پاکی اور ناپاکی کے احکام بتائے جائیں، حد سے زیادہ بے تکلفی سے بچتے ہوئے دوستانہ ماحول قائم رکھیں؛ تاکہ بچے کو اگر کوئی بات پوچھنی ہو تو پوچھ لے،انہیں بری صحبت سے دور رکھا جائے، ان کی جسمانی اور ذہنی صحت کا خیال رکھا جائے، بالغ ہونے کےبعد جلد ازجلد شادی کی جائے، انہیں غیر شرعی طریقے سے جنسی خواہش پوری کرنے کے گناہ اور نقصانات بتائے جائیں، انہیں شہوت ابھارنے اور گناہ میں واقع کرنے والے اسباب سے دور رکھا جائے۔
بچوں کی تربیت کے بارے میں مولاناحبیب اللہ مختار شہید رحمہ اللہ کی کتاب "اسلام اور تربیتِ اولاد" کا مطالعہ والدین کے لیے مفید رہے گا۔
سائل نے جس حدیث (قیامت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ مرد کم ہوجائیں گےاورعورتوں کی تعداد زیادہ ہوجائےگی یہاں تک کہ پچاس پچاس عورتوں کا سنبھالنے والا ایک شخص ہوگا) کا ذکر کیا ہے، اس حدیث کا محدثین کرام رحمہم اللہ نے یہ معنی ومفہوم بیان کیا ہے کہ لڑکوں کی بہ نسبت لڑکیوں کی پیدائش زیادہ ہوگی یا اموات کی کثرت کی وجہ سے مردوں کی تعدادکم ہوجائے گی،عورتیں اتنی کثرت سےہوں گی کہ ایک مرد پچاس پچاس عورتوں کا کفیل ہوگا۔
نیز سائل نے پیدا ہونے والے بچے کی جنس کی تعیین کے سلسلے میں جوسائنسی تحقیق ذکر کی ہے وہ بھی درست نہیں،کیوں کہ سپرم کی طاقت پر جنس کی تعیین سائنس میں تسلیم شدہ نہیں ہے۔
نیز احادیثِ مبارکہ اس حوالے سے ہماری درست راہ نمائی کرتی ہیں، صحیح مسلم میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑا تھا کہ ایک یہودی عالم آپ ﷺکے پاس آیا ، اس نے کہا: میں آپ سے ایک چیز کے بارے میں پوچھنے آیا ہوں جسے اہل زمین سے صرف نبی جانتا ہے یا ایک دو اور انسان۔ آپ نے فرمایا: اگر میں نے تمہیں بتا دیا تو تمہیں اس سے فائدہ ہو گا؟ اس نے کہا: میں کان لگا کر سنوں گا۔اس نے کہا: میں آپ سے اولاد کے بارے میں پوچھنے آیا ہوں۔ آپ نے فرمایا: مرد کا پانی سفید ہوتا ہے اور عورت کا پانی زرد ہوتا ہے، جب دونوں ملتے ہیں اور مرد کا مادہ منویہ عورت کی منی پر غالب آ جاتا ہے تو اللہ کے حکم سے دونوں کے ہاں بیٹا پیدا ہوتا ہے اور جب عورت کی منی مرد کی منی پر غالب آ جاتی ہے تو اللہ کے حکم سے دونوں کے ہاں بیٹی پیدا ہوتی ہے، یہودی نے کہا: آپ نے واقعی صحیح فرمایا اور آپ یقیناً نبی ہیں۔
صحیح بخاری میں ہے کہ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ آنے کی خبر ہوئی تو وہ آپ سے چند سوال کرنے کے لیے آئے، ان میں سے ایک سوال یہ تھا کہ کیا وجہ ہے کہ بچہ کبھی باپ کے مشابہ ہوتا ہے اور کبھی ماں کے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچہ باپ کی صورت پر اس وقت جاتا ہے جب مرد کاپانی عورت کےپانی سے پہلے(رحم میں)پہنچ جائے، اورجب عورت کاپانی مرد کے پانی سے پہلے (رحم میں) پہنچ جائےتو بچہ ماں کے مشابہہ ہوتا ہے۔
صحیح مسلم کی دوسری روایت میں ہے کہ جب عورت کا پانی مرد کے پانی پر غالب آ جاتا ہے تو بچہ اپنے ماموؤں کے مشابہ ہوتا ہے اور جب مرد کا پانی عورت کے پانی پر غالب آتا ہے تو بچہ اپنے چچاؤں کے مشابہ ہوتا ہے۔
محدثین نے ان روایات کی تشریح یہ کی ہے کہ: رحمِ مادَر میں پانی (منی ) کا پہلے پہنچنا مذکر یا مؤنث ہونے کاسبب اور پانی کا غالب آنا چچاؤں اور ماموؤں کے ساتھ مشابہت کاسبب ہو سکتا ہے، تو مجموعی اعتبار سے یہاں چار صورتیں بنتی ہیں، جو درج ذیل ہیں :
1- اگر مرد کاپانی رحم میں پہلے پہنچ گیا اور عورت کے پانی پر غالب آگیا تو ممکن ہے کہ بچہ لڑکا ہو اور چچاؤں کے مشابہ ہو۔
2- اگر مرد کا پانی رحم میں پہلے پہنچ گیا اورعورت کا پانی اس پر غالب آگیا توممکن ہے کہ بچہ لڑکاہواور ماموؤں کے مشابہ ہو۔
3- اگر عورت کا پانی رحم میں پہلے پہنچ گیا اورمرد کا پانی اس پر غالب آگیا توممکن ہےکہ بچہ لڑکی ہو اور چچاؤں کے مشابہ ہو۔
4- اگر عورت کا پانی رحم میں پہلے پہنچ گیا اور مرد کے پانی پر غالب آگیاتوممکن ہے کہ بچہ لڑکی ہواور ماموؤں کے مشابہ ہو۔
سنن أبي داود میں ہے:
"عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: مروا أولادكم بالصلاة وهم أبناء سبع سنين واضربوهم عليها وهم أبناء عشر سنين وفرقوا بينهم فى المضاجع ".
(کتاب الصلاۃ، باب متی یؤمر الغلام بالصلاۃ، ج: 1، ص:367، ط: دار الرسالة العالمیة)
ترجمہ:"عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تمہاری اولاد سات سال کی ہو جائے تو تم ان کو نماز پڑھنے کا حکم دو، اور جب وہ دس سال کے ہو جائیں تو انہیں اس پر (یعنی نماز نہ پڑھنے پر) مارو، اور ان کے سونے کے بستر الگ کر دو۔"
وفیہ ایضا:
"حدثنا محمد بن بشار، حدثنا أبو عامر وأبو داود، قالا: حدثنا زهير بن محمد، حدثني موسى بن وردان عن أبي هريرة أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: الرجل على دين خليله، فلينظر أحدكم من يخالل."
(أول کتاب الأدب، باب من یؤمر أن یجالس، ج: 7، ص : 204، ط: دار الرسالة العالمیة)
ترجمہ:" نبی اکرمﷺ نے فرمایا:آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، لہٰذا تم میں سے ہر شخص کو یہ دیکھنا چاہیئے کہ وہ کس سے دوستی کر رہا ہے"۔
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"و عن أبي سعيد و ابن عباس قالا: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من ولد له ولد فليحسن اسمه و أدبه فإذا بلغ فليزوّجه، فإن بلغ و لم يزوّجه فأصاب إثماً فإنما إثمه على أبيه."
( كتاب النكاح، باب الولي في النكاح واستئذان المرأة، الفصل الثالث، ج: 2، ص: 939، ط: المكتب الإسلامي - بيروت)
ترجمہ:" رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جس کے ہاں بچہ پیدا ہو اس کی ذمہ داری ہے کہ اس کا اچھا نام رکھے، بالغ ہونے پر اس کی شادی کرے، اگر شادی نہیں کی اور اولاد نے کوئی گناہ کرلیا تو باپ اس جرم میں شریک ہوگا اور گناہ گار ہوگا۔"
صحیح البخاری میں ہے:
"حدثني حامد بن عمر، عن بشر بن المفضل: حدثنا حميد: حدثنا أنس: أن عبد الله بن سلام بلغه مقدم النبي صلى الله عليه وسلم المدينة، فأتاه يسأله عن أشياء...وما بال الولد ينزع إلى أبيه أو إلى أمه؟....وأما الولد: فإنه إذا سبق ماء الرجل ماء المرأة نزع الولد، وإذا سبق ماء المرأة ماء الرجل نزعت الولد."
(كتاب فضائل الصحابة، باب: كيف آخى النبي صلى الله عليه وسلم بين أصحابه، ج: 3، ص: 1433، ط: دار ابن کثیر، دمشق)
ترجمہ: " جب عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ آنے کی خبر ہوئی تو وہ آپ سے چند سوال کرنے کے لیے آئے...کیا وجہ ہے کہ بچہ کبھی باپ کے مشابہہ ہوتا ہے اور کبھی ماں کے؟.... نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بچہ باپ کی صورت پر اس وقت جاتا ہے جب مرد کاپانی عورت کےپانی سے پہلے(رحم میں)پہنچ جائے، اورجب عورت کاپانی مرد کے پانی سے پہلے (رحم میں) پہنچ جائےتو بچہ ماں کے مشابہہ ہوتا ہے۔"
صحیح مسلم میں ہے:
"حدثني الحسن بن علي الحلواني. حدثنا أبو توبة (وهو الربيع بن نافع) حدثنا معاوية (يعني ابن سلام) عن زيد (يعني أخاه)؛ أنه سمع أبا سلام قال:حدثني أبو أسماء الرحبي؛ أن ثوبان مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم حدثه قال:كنت قائما عند رسول الله صلى الله عليه وسلم. فجاء حبر من أحبار اليهود.... قال: وجئت أسألك عن شيء لا يعلمه أحد من أهل الأرض. إلا نبي أو رجل أو رجلان. قال "ينفعك إن حدثتك؟ " قال: أسمع بأذني. قال: جئت أسألك عن الولد؟ قال "ماء الرجل أبيض وماء المرأة أصفر. فإذا اجتمعا، فعلا مني الرجل مني المرأة، أذكرا بإذن الله. وإذا علا مني المرأة مني الرجل، آنثا بإذن الله قال اليهودي: لقد صدقت. وإنك لنبي...."
(کتاب الحیض، باب بيان صفة مني الرجل والمرأة وأن الولد مخلوق من مائهما، ج: 1، ص: 252، ط: دار إحیاء التراث العربي)
ترجمہ:"نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑا تھا کہ ایک یہودی عالم آپ کے پاس آیا ... اس نے کہا: میں آپ سے ایک چیز کے بارے میں پوچھنے آیا ہوں جسے اہل زمین سے صرف نبی جانتا ہے یا ایک دو اور انسان۔ آپ نے فرمایا: اگر میں نے تمہیں بتا دیا تو تمہیں اس سے فائدہ ہو گا؟ اس نے کہا: میں کان لگا کر سنوں گا۔اس نے کہا: میں آپ سے اولاد کے بارے میں پوچھنے آیا ہوں۔ آپ نے فرمایا: مرد کا پانی سفید ہوتا ہے اور عورت کا پانی زرد ہوتا ہے، جب دونوں ملتے ہیں اور مرد کا مادہ منویہ عورت کی منی پر غالب آ جاتا ہے تو اللہ کے حکم سے دونوں کے ہاں بیٹا پیدا ہوتا ہے اور جب عورت کی منی مرد کی منی پر غالب آ جاتی ہے تو اللہ کے حکم سے دونوں کے ہاں بیٹی پیدا ہوتی ہے، یہودی نے کہا: آپ نے واقعی صحیح فرمایا اور آپ یقیناً نبی ہیں."
وفیہ ایضا:
"إذا علا ماؤها ماء الرجل أشبه الولد أخواله. وإذا علا ماء الرجل ماءها أشبه أعمامه."
(کتاب الحیض، باب وجوب الغسل على المرأة بخروج المني منها، ج: 1، ص: 251، ط: دار إحیاء التراث العربي)
ترجمہ: "جب عورت کا پانی مرد کے پانی پر غالب آ جاتا ہے تو بچہ اپنے ماموؤں کے مشابہ ہوتا ہے اور جب مرد کا پانی عورت کے پانی پر غالب آتا ہے تو بچہ اپنے چچاؤں کے مشابہ ہوتا ہے۔"
اکمال اکمال المعلم میں ہے:
" وزعم بعضهم أن العلوّ علة تشبه الأعمام والأخوال، والسبق علة الأذكار والإيناث، وهذا التفصيل يرد بأنه في حديث الحِبر جعل العلوّ علة الأذكار والإيناث. قلتُ: لصحة تفسير العلوّ فيه بالسبق إلى الرّحِم، لأن ما علا سبق ويتعين تفسيره بذلك بأنه في حديث المرأة جعل العلوّ علة شبه الأعمام والأخوال، وجعله في حديث الحبر علة الأذكار والإيناث، فلو أبقينا العلوّ في حديث الحبر على بابه لزم بمتضى الحديث أن يكون العلوّ علة في شبه الأعمام والأخوال والأذكار والإيناث، ولا يصح، لأن الحس يكذبه، لأنا نشاهد الولد ذكرا ويشبه الأخوال، ووجه الجمع بين أحاديث الباب أن يكون الشبه المذكور في هذا الحديث يعني به الشبه الأعم من كونه في التذكير والتأنيث، وشبه الأعمام والأخوال، والسبق إلى الرحم علة التذكير والتأنيث، والعلوّ شبه الأعمام والأخوال، ويخرج من مجموع ذلك أن الأقسام أربعة: إن سبق ماء الرجل وعلا أذكر وأشبه الولد أعمامه، وإن سبق ماء المرأة وعلا آنث وأشبه الولد أخواله، وإن سبق ماء الرجل وعلا ماؤها أذكر وأشبه الولد أخواله، وإن سبق ماء المرأة وعلا ماؤه آنث وأشبه الولد أعمامه."
(کتاب الطھارۃ، باب وجوب الغسل على المرأة بخروج المني منها، ج: 2، ص: 88،89، ط: دار الكتب العلمية بيروت)
فتح الباری میں ہے:
"عن أنس قال لأحدثنكم حديثا لا يحدثكم أحد بعدي، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: من أشراط الساعة أن يقل العلم ويظهر الجهل، ويظهر الزنا وتكثر النساء، ويقل الرجال حتى يكون لخمسين امرأة القيم الواحد ....
(وتكثر النساء) قيل: سببه أن الفتن تكثر فيكثر القتل في الرجال؛ لأنهم أهل الحرب دون النساء. و قال أبو عبد الملك: هو إشارة إلى كثرة الفتوح فتكثر السبايا فيتخذ الرجل الواحد عدة موطوآت. قلت: و فيه نظر؛ لأنه صرح بالقلة في حديث أبي موسى الآتي في الزكاة عند المصنف فقال: من قلة الرجال وكثرة النساء والظاهر أنها علامة محضة لا لسبب آخر، بل يقدر الله في آخر الزمان أن يقل من يولد من الذكور، و يكثر من يولد من الإناث، و كون كثرة النساء من العلامات مناسبة لظهور الجهل ورفع العلم.
(وقوله: لخمسين) يحتمل أن يراد به حقيقة هذا العدد، أو يكون مجازا عن الكثرة. ويؤيده أن في حديث أبي موسى: وترى الرجل الواحد يتبعه أربعون امرأة.....
(قوله:القيم) أي: من يقوم بأمرهن، واللام للعهد إشعارا بما هو معهود من كون الرجال قوامين على النساء....وقال القرطبي في التذكرة: يحتمل أن يراد بالقيم من يقوم عليهن سواء كن موطوآت أم لا. ويحتمل أن يكون ذلك يقع في الزمان الذي لا يبقى فيه من يقول: الله الله، فيتزوج الواحد بغير عدد جهلا بالحكم الشرعي."
(کتاب العلم، باب رفع العلم وظهور الجهل، ج: ص: 179، ط: المکتبة السلفیة،مصر)
عمدۃ القاری میں ہے:
"قال أبو موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم. وترى الرجل الواحد يتبعه أربعون امرأة يلذن به من قلة الرجال وكثرة النساء....
(يلذن) من لاذ يلوذ لوذا بالذال المعجمة إذا التجأ به وانضم واستغاث، وذلك إما لكونهن نساءه وسرايره، وقيل: من البنات والأخوات وشبههن من القرابات، وتكون قلة الرجال من اشتداد الفتن وترادف المحن فيقل الرجال."
(کتاب النکاح، باب يقل الرجال ويكثر النساء، ج: 20، ص: 212، ط: دار الفکر بیروت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144609101326
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن