
کیا امام مسجد کو صدقہ فطر دیا جاسکتا ہے؟
کیا صدقہ فطر کی رقم سے غریب مستحقین کو روزہ افطار کرایا جاسکتا ہے؟
کیا صدقہ فطر کے پیسوں سے کسی مستحقِ زکات کے گھر میں راشن ڈلوا سکتے ہیں؟
واضح رہے کہ جس طرح زکوٰة مستحقین زکوٰة کو مالک بنا کر دینا ضروری ہے، اسی طرح صدقہ فطر بھی مستحق کو مالک بنا کر دینا شرعا ضروری ہے، لہذا:
1۔ اگر امامِ مسجد اگر مستحقِ زکوٰۃ ہوں، تو ان کو صدقہ فطر دیا جاسکتا ہے۔
2۔ اگر ایک دستر خوان پر بٹھا کر ان کو افطار کروایا جائے، تو اس سے صدقہ فطر ادا نہیں ہوگا، کیوں کہ اس میں تملیک (مالک بنانا) کی شرط نہیں پائی جاتی ہے، البتہ اگر افطار کی اشیاء ہر بندے کے حساب سے پیکٹ بنادی جائیں، اور وہ پیکٹ مستحقین زکوٰة افراد کو مالک بنا کر دے دیا جائے،تو اس سے صدقہ فطر ادا ہوجائے گا۔
3۔ صدقہ فطر کی رقم سے راشن خرید کر اگر مستحقِ زکوٰۃ کو مالک بنا کر وہ راشن دے دیا جائے، تو اس سے بھی صدقہ فطر ادا ہوجائے گا۔
الدر المختار میں ہے:
"(وصدقة الفطر كالزكاة في المصارف) وفي كل حال (إلا في) جواز (الدفع إلى الذمي) وعدم سقوطها بهلاك المال وقد مر."
(كتاب الزكاة، ج:2، ص:368، ط:سعيد)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"أما تفسيرها فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي، ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله - تعالى - هذا في الشرع كذا في التبيين."
(كتاب الزكوة، الباب الأول في تفسير الزكوة وصفتها وشرائطها، ج:1، ص:170، ط: دار الفكر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144609100409
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن