بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ربیع الاول 1448ھ 24 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

فلیٹ کی خریداری کے معاملہ میں فلیٹ کی تعمیر سے دو سال قبل بکنگ کی مد میں ادا کردہ اقساط کی زکات کا حکم / رہائش کی نیت سے خریدے ہوئے فلیٹ کو بعد میں بیچنے کی نیت ہوجانے کی صورت میں زکات کا حکم


سوال

میرا ایک فلیٹ ہے  جو میں نے قسطوں پر لیا تھا، میں نے 4 سال تک اُس کی قسطیں بھری ہیں اور پھر فلیٹ میرے نام پر ہو گیا۔ میں نے یہ فلیٹ رہائش کی نیت سے لیا تھا،پھر جب اس کا اسٹرکچر تیار ہوا تو پھرا میرا یہ ارادہ ہوا کہ اِسے فروخت کردوں گا تاکہ اس سے آنے والے پیسوں کو دوبارہ سرمایہ کاری میں لگا سکوں۔ اب مجھے یہ بتائیں کہ کیا اس فلیٹ پر جسے اب میں نے 4 سال بعد اپنا نام کروا لیا، تو کیا اس پر زکوٰۃ لگے گی؟ اور وضاحت کریں کہ زکوٰۃ کا دورانیہ کب سے شروع ہوگا؟

 تنقیح: چار سال قبل فلیٹ کی بکنگ کروائی گئی تھی، فلیٹ بکنگ کے تقریباً 2 سال بعد تعمیر ہوا، فلیٹ کی خریداری کا معاملہ کرتے وقت اُس میں رہائش کی نیت تھی، لیکن اسٹرکچر کی تعمیرمکمل ہونے کے بعد  اُسے بیچنے کی نیت ہوئی۔

جواب

بصورت مسئولہ چوں کہ سائل نے چار سال قبل مذکورہ فلیٹ کی فقط بکنگ کروائی تھی اورفلیٹ تعمیر نہیں ہوا تھا،اور شرعاً بکنگ کی حیثیت وعدہ بیع کی ہے،بیع کی نہیں، اس لیے فلیٹ کی بکنگ کے بعد تعمیر یعنی اس کا ڈھانچہ/اسٹرکچر تیار ہونے سے قبل دو سال کی ادا کردہ اقساط سائل کی طرف سے تعمیراتی کمپنی کے پاس قرض متصور ہوں گی،اور اس دی گئی رقم کی زکات ادا کرنا  سائل  کے ذمہ لازم  ہے، اس لئے کہ کسی چیز کے وجود میں آنے سے پہلے اس کی خریدوفروخت کا جواز نہیں، البتہ اس کا ڈھانچہ تیار ہوجانے کے بعد سودا ہونے کا قابل بن جاتا ہے، اس لیے ڈھانچہ تیار ہونے کے بعد وہ بکنگ سودا کے حکم میں شمار ہوگی۔ پھر چوں کہ سودا جس وقت مکمل ہوا اُس وقت رہائش کی ہی نیت تھی، تجارت کی غرض سے اُسے فروخت کرنے کا کوئی ارادہ نہ تھا،اس لیے اس تعمیر شدہ فلیٹ کی مالیت پر زکاۃ نہیں آئے گی۔

باقی فلیٹ کی خریداری کا معاملہ کرتے وقت چوں کہ رہائش کی نیت تھی، تجارت کی نیت نہیں تھی، اور پھر ڈھانچہ بن جانے پر جب بکنگ سودامیں تبدیل ہوئی اس وقت بھی رہائش کی نیت تھی  اور اُس کے بعد تجارت کی نیت ہوئی اُس نیت سے یہ فلیٹ مال تجارت نہیں بنے گا اور  اِس فلیٹ کی مالیت پر زکات واجب نہیں ہے، کیوں کہ  جو مکان/ پلاٹ رہائش کی نیت سے خریدا جائے اُس پر  زکاۃ واجب نہیں ہوتی،اسی طرح اگر ابتداءًرہائش کی نیت سے خریدا جائے اور پھر بعد میں اُس میں تجارت کا ارادہ ہوجائے تو  محض بیچنے کے ارادے سے یابعد میں تجارت نیت ہونے سے اُس کی قیمت پر زکاۃ واجب نہ ہو گی، بلکہ جب اُس کو بیچ دیا جائے پھر اُس کی رقم پر زکات کے ضابطے کے مطابق زکاۃ واجب ہو گی۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"وإن ذكرا البيع من غير شرط ثم ذكرا الشرط على وجه المواعدة جاز البيع ويلزم الوفاء بالوعد كذا في فتاوى قاضي خان."

(كتاب البيوع، الباب العشرون، ج:3، ص:209، ط:دار الفكر۔بيروت)

فتاوی شامی میں ہے:

"وفي جامع الفصولين أيضًا: لو ذكرا البيع بلا شرط ثم ذكرا الشرط على وجه العقد جاز البيع ولزم الوفاء بالوعد، إذ المواعيد قد تكون لازمةً فيجعل لازمًا لحاجة الناس تبايعا بلا ذكر شرط الوفاء ثم شرطاه يكون بيع الوفاء؛ إذ الشرط اللاحق يلتحق بأصل العقد عند أبي حنيفة، ثم رمز أنه يلتحق عنده لا عندهما، وأن الصحيح أنه لايشترط لالتحاقه مجلس العقد. اهـوبه أفتى في الخيرية وقال: فقد صرح علماؤنا بأنهما لو ذكرا البيع بلا شرط ثم ذكرا الشرط على وجه العدة جاز البيع ولزم الوفاء بالوعد."

(كتاب البيوع، ج:5، ص:84، ط:سعيد)

وفيه ايضاً:

"(لايبقى للتجارة ما) أي عبد مثلا (اشتراه لها فنوى) بعد ذلك (خدمته ثم) ما نواه للخدمة (لايصير للتجارة) و إن نواه لها ما لم يبعه بجنس ما فيه الزكاة. و الفرق أن التجارة عمل فلاتتم بمجرد النية؛ بخلاف الأول فإنه ترك العمل فيتم بها."

(کتاب الزکات،ج:2،ص:272،سعید)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144607101288

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں