بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ربیع الاول 1448ھ 23 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

صلاۃ غوثیہ کی شرعی حیثیت


سوال

کچھ افراد کے ہاں نمازِ غوثیہ نام کی ایک نماز پڑھی جاتی ہے اور اس کے بعد شیخ عبدالقادر جیلانی کو مدد کےلیے پکارا جاتا ہے ،  ان افراد کا دعویٰ ہے کہ یہ نماز شیخ عبد الحق محدث دہلوی سے بھی منقول ہے اور ملا علی قاری نے بھی اس کی تصدیق کی ہے۔ اس دعوے کی کیا حقیقت ہے؟ علمائے دیوبند میں سے کسی نے اس کی توثیق یا تردید کی ہے؟  حضرت مولاناسرفراز خان صفدر صاحب کی کافی کتابیں دیکھی ہیں ، کسی کتاب میں اس کی تردید نظر نہیں آئی، مہربانی فرما کر راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

صلاۃ الغوثیہ  کے نام سے جو آج کل نماز پڑھی جاتی ہے، وہ بدعت ہے اور قابلِ ترک ہے، اس کا پڑھنا جائز نہیں ہے، اس کی شرعی حیثیت کے بارے میں حضرت مولانا مفتی رشید احمد گنگوہیؒ نے ایک سوال کے جواب میں تحریر فرمایا ہے:

”صلوۃ غوثیہ کا حکم 

(سوال) صلوٰۃ غوثیہ اکثر مشائخوں میں مروج ہے اس کا پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟

( جواب ) بندہ اس کو پسند نہیں کرتا اور نہ جائز جانے ۔فقط واللہ تعالیٰ اعلم۔ 

صلوة غوثیہ و ہول معکوس 

(سوال) صلوٰۃ غوثیہ جو اکثر عوام پڑھتے ہیں جائز ہے یا نہیں؟ اور صلوٰۃ ہول وصلوة معکوس بھی جائز ہے یا نہیں؟ 

( جواب ) صلوۃ غوثیہ کی حقیقت ہم کو معلوم نہیں اور صلوٰۃ معکوس فی الحقیقت نماز نہیں،  بلکہ مجاہدہ ہے اور صلوٰۃ ہول کا ثبوت صحاح حدیث سے نہیں۔“

(فتاوی رشیدیہ جدید مبوب، کتاب العلم، ص:171، ط: عالمی مجلس تحف)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144607100553

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں