بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ربیع الاول 1448ھ 29 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

دو بھائیوں کا والد کی زمین پر ہبہ کا دعویٰ کرنے کا حکم


سوال

ہم کل سات بھائی اور پانچ بہنیں ہیں، 1997ء میں ہمارے والد صاحب کا 83 سال کی عمر میں انتقا ل ہوگیا تھا، انتقال کے بعد ان کی زرعی زمین شرعی طور پر تمام بہن بھائیوں میں تقسیم کردی گئیں، جو کل 95 ایکڑ بتائی گئی تھی، اب حال ہی میں ہمارے علم میں یہ بات آئی ہے کہ والدصاحب کے نام پر تقریبًا 153 ایکڑ زرعی زمینیں تھیں، بقول ہمارے دو بھائیوں کے یہ58 ایکڑ زمین ہمیں والد صاحب نے گفٹ کردیئے تھے، جبکہ مختیار کار آفس میں کوئی Gift deedموجود نہیں، اب سوال یہ ہے کہ اب ان 58 ایکڑ زمینوں کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

وضاحت: مذکورہ 58 ایکڑ زمین مشترک تھی، اور والد نے دونوں بیٹوں کو زمین میں ان کا حصہ متعین کر کےنہیں دیا تھا، نیز دونوں بھائی جس وقت کے ہبہ کا دعوی کررہے ہیں ، اس وقت بالغ تھے۔

جواب

واضح رہے کہ کسی بھی چیز کو ہبہ (گفٹ) کرنے کے لیے ضروری ہے  کہ واہِب (ہبہ کرنے والا) موہوبہ چیز (جس چیز کا ہبہ کیا جارہاہے)  کو موہوب لہ (جس کو ہبہ کررہا ہے) کے نام کرنے کے ساتھ یا زبانی ہبہ کے ساتھ موہوبہ چیز  کا مکمل  قبضہ اور تصرف بھی دے دے، اور ہبہ کے وقت موہوبہ چیز سے اپنا تصرف مکمل طور پر ختم کردے، صرف نام کردینے سے یا زبانی کہہ دینے سے  شرعاً ہبہ درست نہیں ہوتاہےاور چند افراد کو مشترکہ طور پر ہبہ  کرنے کی صورت میں  یہ بھی  ضروری ہے  کہ ہر  ایک کا حصہ  متعین  کرکے  باقاعدہ تقسیم کرکےاس  کو دیا جائے، ورنہ تقسیم کیے بغیر مشترکہ ہبہ بھی درست نہیں ہوتا، صورتِ مسئولہ میں سائل کے دونوں بھائیوں کا مشترکہ زمین میں ہبہ کا دعویٰ کرنا شرعًا درست نہیں ، کیونکہ  سائل کے والد نے دونوں بیٹوں کومشترکہ زمین تقسیم کر کے ہر ایک کو ان کا حصہ الگ الگ متعین کر کے نہیں دیا تھا، لہذا مذکورہ زمین والد کی ملکیت  شمار ہوکر ان کےتمام ورثاءمیں شرعی حصوں کے مطابق تقسیم کی جائے گی۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلاً لملك الواهب لا مشغولاً به) والأصل أن الموهوب إن مشغولاً بملك الواهب منع تمامها، وإن شاغلاً لا."

(کتاب الھبة، ج:5، ص:290، ط: دار الفکر)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"لايثبت الملك للموهوب له إلا بالقبض هو المختار، هكذا في الفصول العمادية."

(کتاب الھبة، الباب الثاني فیما یجوز من الھبۃ وما لایجوز، ج:4، ص:378، ط: دار الفکر)

وفیه أیضًا:

"وتصح في محوز مفرغ عن أملاك الواهب وحقوقه ومشاع لايقسم ولايبقى منتفعًا به بعد القسمة من جنس الانتفاع الذي كان قبل القسمة كالبيت  الصغير والحمام الصغير ولا تصح في مشاع يقسم ويبقى منتفعا به قبل القسمة وبعدها، هكذا في الكافي."

(کتاب الھبة، الباب الثاني فيما يجوز من الهبة وما لا يجوز، ج:4، ص:374، ط: دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144606101492

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں