بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ربیع الاول 1448ھ 24 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

زكات كے مال سے پانی کا نل لگوانا کیسا ہے؟


سوال

 میرا ایک ملازم ہے جو زکوٰۃ کا مستحق  ہے ،اس کے گھر میں پانی پینے والے نل کی ضرورت ہے ،جس سے اس کے گھر والے پانی استعمال کریں گے، کیا میں اپنی زکوٰۃ کے پیسوں سے اس کے گھر میں پانی کا نل لگوا سکتا ہوں ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر ملازم مستحق زکات ہے تو اس کو زکات کی رقم  یا نل وغیرہ کےسامان دے کر   باضابطہ مالک بنایا جاۓ،پھر ملازم جیسے چاہے اس میں تصرف کرے،تو زکات ادا ہوجاۓ گی۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة."

(كتاب الزكوة، باب مصرف الزكوة و العشر، 344/2، ط: سعید)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144605102340

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں