بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ربیع الاول 1448ھ 24 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر صرف اس امت کی خصوصیت ہے اورپچھلی امتوں میں نہیں تھا ؟


سوال

بعض تبلیغی حضرات یہ کہتے ہیں کہ یہ کام(امر بالمعروف اور نہی عن المنکر) اس امت کی خصوصیت ہے، سوال یہ ہے کہ کیا یہ کام پچھلی امتوں میں نہیں تھا؟ اگر نہیں تھا تو قرآنِ کریم کی اس آیت کی کیا تاویل ہوگی؟

لُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ بَنِي إِسْرائِيلَ عَلى لِسانِ داوُدَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ذلِكَ بِما عَصَوْا وَكانُوا يَعْتَدُونَ (78) كانُوا لا يَتَناهَوْنَ عَنْ مُنكَرٍ فَعَلُوهُ لَبِئْسَ مَا كانُوا يَفْعَلُونَ (79)

جواب

نصوصِ قرآنیہ اور احادیثِ نبویہ میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا حکم صرف اس امت کے ساتھ خاص نہیں ہے، پچھلی امتوں کے لیے بھی یہ حکم تھا، البتہ اممِ سابقہ نے اس حکمِ خداوندی کی تعمیل میں سستی اورکاہلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے غفلت برتی،  جس کی وجہ سے  ان پر گرفت کی گئی، جیسا کہ قرآنِ کریم میں سورہ مائدہ کی مذکورہ آیت کے علاوہ متعدد مقامات میں یہ بات مذکور ہے۔

ارشادِ خداوندی ہے:

فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ أَنْجَيْنَا الَّذِينَ يَنْهَوْنَ عَنِ السُّوءِ وَأَخَذْنَا الَّذِينَ ظَلَمُوا بِعَذابٍ بَئِيسٍ بِما كانُوا يَفْسُقُونَ (الأعراف 165)

(سو آخر) جب وہ اس امر کے تارک ہی رہے جو ان کو سمجھایا جاتا تھا (یعنی نہ مانا) تو ہم نے ان لوگوں کو بچالیا جو اس بری بات سے منع کیا کرتے تھے اور ان لوگوں کو جو (حکم مذکور میں) زیادتی کرتے تھے ایک سخت عذاب میں پکڑ لیا اس سبب سے کہ وہ بےحکمی کیا کرتے تھے ۔(بيان القرآن)

ایک اور جگہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

"فَلَوْلا كانَ ‌مِنَ ‌الْقُرُونِ مِنْ قَبْلِكُمْ أُولُوا بَقِيَّةٍ يَنْهَوْنَ عَنِ الْفَسادِ فِي الْأَرْضِ إِلَاّ قَلِيلاً مِمَّنْ أَنْجَيْنا مِنْهُمْ وَاتَّبَعَ الَّذِينَ ظَلَمُوا مَا أُتْرِفُوا فِيهِ وَكانُوا مُجْرِمِينَ" (هود 116)

”تو جو امتیں تم سے پہلے ہو گزری ہیں ان میں ایسے سمجھدار لوگ نہ ہوئے جو کہ (دوسروں کو) ملک میں فساد (یعنی کفر و شرک) پھیلانے سے منع کرتے بجز چند آدمیوں کے کہ جن کو ان میں سے ہم نے ( عذاب سے) بچا لیا تھا (ف ٢) اور جو لوگ نافرمان تھے وہ جس ناز و نعمت میں تھے اس کے پیچھے پڑے رہے اور جرائم کے خو گر ہوگئے ۔“

تاہم امت محمدیہ کی امم سابقہ پر فضیلت  اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر کواس امت کی خصوصیت  کہنے کی وجہ یہ ہے کہ    یہ امت امر بالمعروف کی تمام صورتیں( بشمول اعلی اور افضل صورت جہاد بھی )اختیار کرے گی،اور یہ فریضہ اس  امتِ میں تا قیامت جاری رہے گا،نیزیہ امت اس کام کی انجام دہی کے لیے خصوصی اہتمام کرے گی کہ  امت میں ایک ایسی  جماعت  ہوگی کہ جس کا وظیفۂ حیات ہی امر بالمعروف و نہی عن المنکر ہوگااوروہ  دین کےدیگر شعبوں کی طرح اس کام کو بھی مستقل کام سمجھ کر سر انجام دے گی ، بر خلاف اممِ سابقہ کے کہ انہوں نے اس کو اہمیت نہیں دی تھی اور ان میں یہ فریضۂ  متروک ہوگیا تھا۔

لہذا تبلیغی جماعت سے وابستہ افراد کا یہ یہ کہنا کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ  اس امت کی خصوصیت ہے(مذکورہ بالا تفصیل کی رو سے) قابلِ اشکال اور محلِ نظر نہیں ہے، تاہم یہ بات بھی ملحوظ رہنی چاہیے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے کام کو صرف مروجہ تبلیغی محنت کے ساتھ ہی مخصوص کردینااور اسی میں منحصر سمجھنا غلو ہے، اس لیے کہ تبلیغی مراکز کے علاوہ مدارس اور خانقاہیں دینی جماعتیں وغیرہ بھی اسی فریضہ کے احیاء میں مشغول ہیں۔
 مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ   بیان القرآن میں لکھتے ہیں: 

”یہ خطاب تمام امت محمدیہ کو عام ہے جیسا کمالین میں حضرت علی کی روایت مرفوعا بسند احمد بن حنبل منقول ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ میری امت خیر الام ہے پھر ان میں سے صحابہ اول اور اشرف مخاطبین ہیں پس اوس و خزرج کے قصہ سے مناسبت بھی ظاہر ہوگئی، اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر میں جو زیادہ اہتمام کی قید نکال دی گئی مراد اس سے امر و نہی بالید ہے جو اعلی درجہ اس کا ہے،  یہ درجہ اس امت میں اور امم سے دو وجہ سے زیادہ ہے: اولاً جہاد کا مشروع ہونا جس سے دفع کفر و دفع فساد مقصود ہے۔ ثانیا بوجہ عموم دعوت محمدیہ اس کا سب اقوام کے لئے عام ہونا جیسا للناس میں عام کا لفظ نکال دیا گیا ہے بخلاف شرائع سابقہ کے کہ بعض میں جہاد نہ تھا اور بعض میں بوجہ خصوص وجہ ثانی بھی کافی ہے پس یہ بھی منجملہ اسباب خیریت اس امت کے ہوا۔“

(سورہ آل عمران، آیت 110، ج:1، ص:271، ط: مکتبہ رحمانیہ)

 معارف القرآن میں  ہے:

”اس آیت میں امت محمدیہ کے خیر الامم ہونے کی وجہ یہ بیان فرمائی ہے کہ یہ خلق اللہ کو نفع پہنچانے ہی کے لئے وجود میں آئی ہے ، اور اس کا سب سے بڑا نفع یہ ہے کہ خلق اللہ کی روحانی اور اخلاقی اصلاح کی فکر اس کا منصبی فریضہ ہے اور پچھلی سب امتوں سے زیادہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی تکمیل اس امت کے ذریعہ ہوئی، اگرچہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ پچھلی امتوں پر عائد تھا، جس کی تفصیل احادیث صحیحہ میں مذکور ہے، مگر اول تو پچھلی بہت سی امتوں میں جہاد کا حکم نہیں تھا، اس لئے ان کا امر بالمعروف صرف دل اور زبان سے ہوسکتا تھا، امت محمدیہ میں اس کا تیسرا درجہ ہاتھ کی قوت سے امر بالمعروف کا بھی ہے جس میں جہاد کی تمام اقسام بھی داخل ہیں، اور بزور حکومت اسلامی قوانین کی تنفیذ بھی اس کا جزء ہے، اس کے علاوہ امم سابقہ میں جس طرح دین کے دوسرے شعائر غفلت عام ہوکر محو ہوگئے تھے ، اسی طرح فریضہ امر بالمعروف بھی بالکل متروک ہوگیا تھا، اور اس امت محمدیہ کے متعلق آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہ پیشگوئی ہے کہ ”اس امت میں تا قیامت ایک ایسی جماعت قائم رہے گی جو فریضہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر قائم رہے گی“۔

(سورہ آل عمران، آیت 110، ج:2، ص:150، ط: مکتبہ معارف القرآن کراچی)

تفسیر کبیر میں ہے:

ثم قال: تأمرون بالمعروف وتنهون عن المنكر وتؤمنون بالله. واعلم أن هذا كلام مستأنف، والمقصود منه بيان علة تلك الخيرية، كما تقول: زيد كريم يطعم الناس ويكسوهم ويقوم بما يصلحهم، وتحقيق الكلام أنه ثبت في أصول الفقه أن ذكر الحكم مقرونا بالوصف المناسب له يدل على كون ذلك الحكم معللا بذلك الوصف، فههنا حكم تعالى بثبوت وصف الخيرية لهذه الأمة، ثم ذكر عقيبه هذا الحكم وهذه الطاعات، أعني الأمر/ بالمعروف والنهي عن المنكر والإيمان، فوجب كون تلك الخيرية معللة بهذه العبادات. وهاهنا سؤالات:

السؤال الأول: من أي وجه يقتضي الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر والإيمان بالله كون هذه الأمة خير الأمم مع أن هذه الصفات الثلاثة كانت حاصلة في سائر الأمم؟.

والجواب: قال القفال: تفضيلهم على الأمم الذين كانوا قبلهم إنما حصل لأجل أنهم يأمرون بالمعروف وينهون عن المنكر بآكد الوجوه وهو القتال لأن الأمر بالمعروف قد يكون بالقلب وباللسان وباليد، وأقواها ما يكون بالقتال، لأنه إلقاء النفس في خطر القتل وأعرف المعروفات الدين الحق والإيمان بالتوحيد والنبوة، وأنكر المنكرات: الكفر بالله، فكان الجهاد في الدين محملا لأعظم المضار لغرض إيصال الغير إلى أعظم المنافع، وتخليصه من أعظم المضار، فوجب أن يكون الجهاد أعظم العبادات، ولما كان أمر الجهاد في شرعنا أقوى منه في سائر الشرائع، لا جرم صار ذلك موجبا لفضل هذه الأمة على سائر الأمم، وهذا معنى ما روي عن ابن عباس أنه قال في تفسير هذه الآية: قوله كنتم خير أمة أخرجت للناس تأمرونهم أن يشهدوا أن لا إله إلا الله ويقروا بما أنزل الله، وتقاتلونهم عليه و «لا إله إلا الله» أعظم المعروف، والتكذيب هو أنكر المنكر.

ثم قال القفال: فائدة القتال على الدين لا ينكره منصف، وذلك لأن أكثر الناس يحبون أديانهم بسبب الألف والعادة، ولا يتأملون في الدلائل التي تورد عليهم فإذا أكره على الدخول في الدين بالتخويف بالقتل دخل فيه، ثم لا يزال يضعف ما في قلبه من حب الدين الباطل، ولا يزال يقوى في قلبه حب الدين الحق إلى أن ينتقل من الباطل إلى الحق، ومن استحقاق العذاب الدائم إلى استحقاق الثواب الدائم.

(سورة آل عمران، آیة 110، ج:8، ص:325، ط:دار إحياء التراث العربي)

تفسیر قرطبی میں ہے:

وروى سفيان عن ميسرة الأشجعي عن أبي حازم عن أبي هريرة" كنتم خير أمة أخرجت للناس" قال: تجرون الناس بالسلاسل إلى الإسلام. قال النحاس: والتقدير على هذا كنتم للناس خير أمة. وعلى قول مجاهد: كنتم خير أمة إذ كنتم تأمرون بالمعروف وتنهون عن المنكر. وقيل:إنما صارت أمة محمد صلى الله عليه وسلم خير أمة لأن المسلمين منهم أكثر، والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر فيهم أفشى."

(سورة آل عمران، آیة 110، ج:4، ص:171، دار الكتب المصرية)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144605102215

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں