
غصب اور تعزیر بالمال میں کیا فرق ہے؟ جب کہ دونوں میں اگلے کو مجبور کرنا ہوتا ہے۔تعلیمی اداروں میں اگر طلباء سے جرمانہ لیا گیا ہو تو اس کو کیسے صحیح استعمال کرسکتے ہیں؟ کیا رہائشی طلباء میں اس کوتقسیم کرسکتے ہیں یا جن سے لیا ہے، انہیں پر خرچ کردیا جاۓ؟
تعليمی اداروں کی انتطامیہ کے لیے کسی طالب عالم پر مالی جرمانہ عائد كرنا اور اسےکسی مد میں خر چ کرناشرعاً جائز نہيں ہے، اگر کسی طالب علم سے مالی جرمانہ لیا گیاتو اس کو لوٹانا ضروری ہوگا۔
باقی تعزیر بالمال بغرضِ تادیب سزا کے طور پر ہوتی ہے،جب کہ غصب بغیر کسی سبب کےدوسروں کی قابلِ قیمت اور محترم مال کو ظلما و علانیۃ ناحق طورپر لينے کو کہتے ہیں،البتہ دونوں میں اس اعتبار سے کوئی فرق نہیں کہ دونوں میں لیے ہوئے مال کو اپنے اصل مالک کی طرف لوٹانا ضروری ہوتا ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(لا بأخذ مال في المذهب) بحروفيه عن البزازية: وقيل يجوز، ومعناه أن يمسكه مدة لينزجر ثم يعيده له، فإن أيس من توبته صرفه إلى ما يرى.وفي المجتبى أنه كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ.ه۔۔۔
إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي."
(كتاب الحدود، باب التعزيز، مطلب في التعزير بأخذ المال، 61/4، ط:سعید)
وفيه أيضاً:
"لا يجوز التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته."
(كتاب الغضب، مطلب فيما يجوز من التصرف بمال الغير، 200/6، ط:سعید)
”فتاوی ہندیہ “میں ہے:
"أما تفسيره شرعا فهو أخذ مال متقوم محترم بغير إذن المالك على وجه يزيل يد المالك إن كان في يده أو يقصر يده إن لم يكن في يده كذا في المحيط."
(کتاب الغضب، الباب الأول، 119/5، ط:دار الفکر)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144605101800
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن