بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ربیع الاول 1448ھ 27 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

مزارعت میں زمین ایک شخص کی ہو اور باقی چیزیں دوسرے شخص کی ہوں تو کیا حکم ہے


سوال

ایک آدمی نے زمین مزارعت  پر لی ہے ،صورت یہ بیان کرتاہے کہ مالک کی صرف زمین ہے باقی بذر (تخم) عمل اور ہل چلانا عامل پر ہےاور پیداوار میں سے ایک ثلث مالک کو دیاجائے گا اور تین ثلث عامل کو شریعت کی رو  سے یہ معاملہ کیسا ہے؟

ایک شخص کا کہنا ہے کہ مزارعت کے معاملہ  میں بذر (تخم ) ہمیشہ مالک پر ہوگا ،کسی بھی صورت میں اگر بذر کالازم ہونا عامل پر ہو تو یہ سود میں آئےگا،یہ ٹھیک ہے یا غلط؟

جواب

صورت مسئولہ میں ایک آدمی کی صرف  زمین ہے اور دوسرے کی طرف سے بیچ،عمل اور ہل وغیرہ تمام چیزیں ہیں،پیداوار میں سے ایک ثلث  مالک زمین کا ہے اور  باقی پیداوار مزارع(کسان) کی ہے،مزارعت کی یہ صورت شرعا جائز ہے،اس میں شرعا سود نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے :

"(وكذا) صحت (لو كان الأرض والبذر لزيد والبقر والعمل للآخر) أو الأرض له والباقي للآخر (أو العمل له والباقي للآخر) فهذه الثلاثة جائزة.

(قوله وكذا صحت إلخ) هذه الجمل من جملة شروطها زيلعي (قوله فهذه الثلاثة جائزة) ؛ لأن من جوزها إنما جوزها على أنها إجارة، ففي الأولى يكون رب البذر والأرض مستأجرا للفاعل وبقره تبعا له لاتحاد المنفعة؛ لأن البقر آلة له؛ كمن استأجر خياطا ليخيط له بإبرته، وفي الثانية يكون رب البذر مستأجرا للأرض بأجر معلوم من الخارج، فتجوز كاستئجارها بدراهم في الذمة وفي الثالثة يكون مستأجرا للعامل وحده. والأصل فيها أن صاحب البذر هو المستأجر، وتخرج المسائل على هذا كما رأيت زيلعي ملخصا."

(کتاب المزارعۃ،6/ 278،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144604102369

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں