
ہم ہر سال کانفرنس کا انعقاد کرتے ہیں جس پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوتا، لیکن جو لوگ ہر سال عُرس مناتے ہیں اس پر ہر کوئی اعتراض کرتا ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟
مروجہ عرس متعدد مفاسد و بدعات مثلاً :قبر پرستی کرنا، قبر پر چراغ جلانا، صاحبِ قبر کے نام کی نذر و منت ماننا، عورتوں کا قبروں کے پاس جمع ہونا،میلے لگانا وغیرہ پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے،اس لیے کسی عُرس میں شریک ہونا جائز نہیں ہے ۔
عام دینی محافل و کانفرنس جو کسی خلافِ شرع کام پر مشتمل نہ ہو، اس میں شرکت کرنا، منعقد کرانا جائز ہے،اسے عرس پر قیاس کرنا درست نہیں ہے ۔ البتہ اگر دین کے نام پر منعقد ہونے والی کسی تقریب میں بھی بدعات یا غیرشرعی امور کا ارتکاب ہورہا ہو تو وہاں شریک ہونا بھی جائز نہیں ۔
بذل المجہود میں ہے:
"حدثنا أحمد بن صالح قرأت على عبد الله بن نافع قال: أخبرنى ابن أبى ذئب، عن سعيد المقبرى، عن أبى هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا تجعلوا بيوتكم قبورا، ولا تجعلوا قبري عيدا.
(ولا تجعلوا قبري عيدا) هو واحد الأعياد، أي لا تجعلوا زيارة قبري عيدا، أو لا تجعلوا قبري مظهر عيد؛ فإنه يوم لهو وسرور، وحال الزيارة خلاف ذلك، وقيل: يحتمل أن يكون المراد الحث على كثرة زيارته، ولا يجعل كالعيد الذي لا يأتي في العام إلا مرتين.
قال الطيبي: نهاهم عن الاجتماع لها اجتماعهم للعيد نزهة وزينة، وكانت اليهود والنصارى تفعل ذلك بقبور أنبيائهم، فأوردهم (4) القسوة والغفلة، وقيل: العيد اسم من الاعتياد، يقال: عاده واعتاده وتعوده، أي صار عادة له، والعيد ما اعتادك من هم أو غيره، أي لا تجعلوا قبري محل اعتياد، فإنه يؤدي إلى سوء الأدب وارتفاع الحشمة، ولئلا يظن أن دعاء الغائب لا يصل علي."
(أول کتاب المناسک، باب زیارة القبور، ج:7، ص:569، ط: مركز الشيخ أبي الحسن الندوي، الهند)
روح المعانی میں ہے:
"قوله تعالى: (وإذا رأيت الذين يخوضون في آياتنا فأعرض عنهم) ... و استدل بعضهم بالآية على تحريم مجالسة الفساق والمبتدعين من أي جنس كانوا، وإليه ذهب ابن مسعود وإبراهيم وأبو وائل، وبه قال عمر بن عبد العزيز، وروى عنه هشام بن عروة أنه ضرب رجلا صائما كان قاعدا مع قوم يشربون الخمر، فقيل له في ذلك: فتلا الآية."
(ج:3، ص:167، ط:دار الكتب العلمية)
فتاوی شامی میں ہے:
"قلت: وفي البزازية استماع صوت الملاهي كضرب قصب ونحوه حرام لقوله عليه الصلاة والسلام «استماع الملاهي معصية والجلوس عليها فسق والتلذذ بها كفر» أي بالنعمة فصرف الجوارح إلى غير ما خلق لأجله كفر بالنعمة لا شكر فالواجب كل الواجب أن يجتنب كي لا يسمع."
(کتاب الحظر و الاباحة، ج:6، ص: 349، ط: دار الفکر)
فتاوی رشیدیہ(مبوب بطرز جدید) میں ہے:
”عرس کا التزام کرے یا نہ کرے، بدعت اور نا درست ہے، تعین تاریخ سے قبروں پر اجتماع کرنا گناہ ہے، خواہ اور لغویات ہوں یا نہ ہوں۔“
(کتاب البدعات، ص:274، ط: عالمی مجلس تحفظ السلام)
کفایت المفتی میں ہے:
” اول تو عرس کا اجتماع ہی بے اصل ہے، پھر اس میں رقص و سرور کے میلے جمانا تو کسی صورت سے جائز نہیں ہو سکتا۔ “
(کتاب الجنائز، ج:4، ص:192، ط: دار الاشاعت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144604102152
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن