بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ربیع الاول 1448ھ 23 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کو ڈرانے کی نیت سے طلاخ دیتا ہوں، دیتا ہوں کہنے سے طلاق کا حکم


سوال

5 مئی 2024ء  کو میرے اور میری بیوی کے درمیان جھگڑا ہوا، جھگڑے کے دوران میں نے اپنی بیوی کو ڈرانا چاہا اور ڈرانے کی ہی نیت سے میں نے  یہ جملہ کہا کہ ’’طلاخ دیتاہوں، دیتاہوں‘‘ ایک ہی جملہ سمجھ کر، میری نيت بالکل شفاف تھی، طلاق وغیرہ کی کوئی نیت نہیں تھی، اور اس وقت ہمارے درمیان کوئی موجود نہیں تھا، میری بیوی کا کہنا ہے کہ دورانِ جھگڑا میرے شوہر نے یہ الفاظ کہے تھے کہ ایک بار طلاخ یا طلاق، اور دو بار دیتا ہوں، دیتا ہوں، اس وقت ہمارے درمیان کوئی موجود نہیں تھا، اور میرے شوہر نے طلاخ کہا تھا یا طلاق یہ مجھے صحیح طرح معلوم نہیں، میں نے جو سنا وہی میرا بیان ہے، اور سنے گئے الفاظ پر بحلف ہوں۔

اب آپ جناب سے درخواست ہے اس مسئلہ کو دیکھتے ہوئے اس صورت کا شرعًا کیا حکم ہے؟ اور کیا اس بات کی گنجائش ہے کہ ہم دونوں میاں بیوی ایک ساتھ رہیں؟ براہِ کرم اس مسئلہ کے بارے میں ہماری راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ شوہر کا اپنی بیوی سے طلاق کے الفاظ کو بگاڑ کر (مثلاً: تلاغ، طلاک، تلاک، تلاکھ، تلّاکھ، طلاخ، تلاخ، تلّاخ، تلاق وغیرہ) کہنے سے شرعًا طلاق واقع ہوجاتی ہے، اگرچہ شوہر کی نیت بیوی کو ڈرانے کی ہو، یا شوہر نے کچھ نیت نہ کی ہو، کیوں کہ یہ سب الفاظ طلاق کے صریح الفاظ ہیں، اس میں طلاق کی نیت ضروری نہیں ہے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں جب شوہر کا یہ کہناہے کہ جھگڑے کے دوران اس نے اپنی بیوی سے ’’طلاخ، دیتاہوں، دیتاہوں‘‘ کہا تھا، جب کہ بیوی یہ کہہ رہی ہے کہ شوہر نے ’’طلاخ یا طلاق‘‘ میں سے کوئی ایک لفظ استعمال کیا تھا، اور ’’دیتا ہوں، دیتا ہوں‘‘ دو مرتبہ کہا تھا، تو خواہ شوہر نے طلاخ کا لفظ استعمال کیا تھا یا طلاق کا،  بہرصورت بیوی پر دو طلاقیں رجعی واقع ہوچکی ہیں، اگرچہ شوہر نے یہ الفاظ محض ڈرانے کےلیے کہا ہو، طلاق کی نیت اس کی نہ ہو، لہٰذا اب دو طلاق کے بعد شوہر کو عدت (تین ماہ واریاں اگر امید سے نہ ہو، اور اگر امید سے ہوتو بچے کی پیدائش تک کی مدت)کے اندر رجوع کا حق حاصل ہوگا، ہاں اگر شوہر نےعدت کے اندر رجوع نہیں کیا یہاں تک عدت گزر جائے تو تجدیدِ نکاح کے بغیر ازدواجی رشتہ قائم نہیں کیا جا سکتا۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"ويدخل نحو ‌طلاغ ‌وتلاغ وطلاك وتلاك أو " ط ل ق " أو " طلاق باش " بلا فرق بين عالم وجاهل، وإن قال تعمدته تخويفا لم يصدق قضاء إلا إذا أشهد عليه قبله وبه يفتى.

وفي الرد: (قوله ويدخل نحو ‌طلاغ ‌وتلاغ إلخ) أي بالغين المعجمة. قال في البحر: ومنه الألفاظ المصحفة وهي خمسة فزاد على ما هنا ثلاثا. وزاد في النهر إبدال القاف لاما. قال ط: وينبغي أن يقال إن فاء الكلمة إما طاء أو تاء واللام إما قاف أو عين أو غين أو كاف أو لام واثنان في خمسة بعشرة تسعة منها مصحفة، وهي ما عدا الطاء مع القاف اهـ........(قوله بلا فرق إلخ) هذا ذكره في الألفاظ المصحفة فكان عليه ذكره عقبها بلا فاصل (قوله تعمدته) أي التصحيف تخويفا لها بلا قصد الطلاق."

(كتاب الطلاق، باب صريح الطلاق، ج:3، ص:249، ط:ايج ايم سعيد كراتشي)

وفيه أيضاً:

"كرر لفظ الطلاق وقع الكل، وإن نوى التأكيد دين.

وفي الرد: (قوله وإن نوى التأكيد دين) أي ووقع الكل قضاء، وكذا إذا طلق أشباه: أي بأن لم ينو استئنافا ولا تأكيدا لأن الأصل عدم التأكيد."

(كتاب الطلاق، باب طلاق غير المدخول بها، ج:3، ص:293، ط:ايج ايم سعيد)

المحيط البرهانی ميں ہے:

"‌سئل ‌نجم ‌الدين النسفي رحمه الله عن زوجين وقعت بينهما مشاجرة فقالت المرأة: باتوعي اسم مرا طلاق كن، فقال الزوج: طلاق مي كنم طلاق مي كتم طلاق مي كنم؟ أجاب وقال: بأنها تطلق ثلاثاً؛ لأن قوله: طلاق مي كنم للمحض للحال وهو تحقيق بخلاف قوله: كنم؛ لأنه تمحض للاستقبال وهو وعد، وبالعربية قوله: أطلق، لا يكون طلاقاً في أنه دائر بين الحال والاستقبال فلم يكن تحقيقاً مع الشك حتى أن موضع علمت استعماله للحال كان تحقيقاً."

(‌‌كتاب الطلاق، الفصل السابع والعشرون، ج:3، ص:472، ط:دار الكتب العلمية بيروت)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع) ومنع غيره فيها لاشتباه النسب."

(کتاب الطلاق، باب الرجعة، ج:3، ص:409، ط:ایج ایم سعید)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144603100328

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں