بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ربیع الاول 1448ھ 23 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

اسٹیٹ بینک میں نوکری کا حکم


سوال

 ایک بندے نے state bank کے ان departments میں کام کیا ہے۔

1:⁠Domestic Marketing Monetary Management Department (DMMD)

2:Banking Inspection department (BID)

3: Payment system department (PSD)⁠

ان کی آمدنی جائز ہے یا نا جائز اور اسٹیٹ بینک کی پینشن جائز ہے یا ناجائز؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اسٹیٹ بینک کی آمدنی کا کل  یا اکثر حصہ سودی لین دین سے حاصل ہوتا ہے،اور اسی آمدنی سے اسٹیٹ بینک اپنے ملازمین کو تنخواہ وغیرہ کی ادائیگی کرتا ہے، لہذا اسٹیٹ بینک کے کسی بھی شعبہ میں (خواہ اس میں براہِ راست سودی معاملات کیے جاتے ہوں یا نہیں)  ملازمت کرنا جائز نہیں ہے ۔نیز اسٹیٹ بینک کی پینشن کا بھی یہی حکم ہے۔

قرآن کریم میں ارشاد ہے:

"وَأَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰا".(البقرة)

ترجمہ:"حالانکہ اللہ تعالیٰ نے  بیع کو حلال فرمایا ہے اور سود کو حرام کردیا ہے"۔(بیان القرآن)

صحیح مسلم میں ہے:

" حدثنا ‌محمد بن الصباح، ‌وزهير بن حرب، ‌وعثمان بن أبي شيبة ، قالوا: حدثنا ‌هشيم ، أخبرنا ‌أبو الزبير ، عن ‌جابر قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا ومؤكله، وكاتبه وشاهديه، وقال: هم سواء ".

ترجمہ: حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے،کھلانے والے،سود کا معاملہ لکھنے والے اور اس پر گواہ بننے والوں پر لعنت بھیجی ہے،اور فرمایا : یہ سب(گناہ میں) برابر ہیں."  

(‌‌‌‌كتاب البيوع، باب لعن آكل الربا ومؤكله، 5/ 50، ط : دار الطباعة العامرة)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144602100637

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں