بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ربیع الاول 1448ھ 24 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

مالک کو اجارے کی زمین سے ملنے والے اناج پر زکوٰۃ کا حکم


سوال

کیا اجارے کی زمین سے جو گندم مالک کو ملتی ہے اس میں مالک پر زکوٰۃ واجب ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہےکہ جب زمین پیداوار کے عوض اجارہ پر دی جائے یعنی زمین کی  اجرت پیداوار کی صورت میں طے ہو توایسی صورت میں زمین کے عُشری ہونے نہ ہونے کے اعتبار سے کُل پیداوار کے عُشر (دسواں حصّہ) یا نصفِ عشر (بیسواں) مستحقینِ زکوٰۃ کو دیا جائے گا، اس کے علاوہ پیداوار پر مزید زکوٰۃ لازم نہیں ہوگا،کیوں کہ  عُشر یا نصفِ عُشر کا تعلق  پیداوار کے ساتھ ہوتا ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مالک پر پیداوار کی زکوٰۃ لازم نہیں ہوگی، بلکہ عشر یا نصف عشر لازم ہوگا۔

اوراس میں تفصیل یہ ہے کہ زمین کا مالک اگر کرایہ بہت  زیادہ لیتا ہے یعنی زمین کی اُجرتِ مثل یا اس سے بھی زیادہ لیتا ہےجس کی وجہ سے  کرایہ دار کو  کم بچت ہوتی ہے تو ایسی صورت میں عُشر  زمین کے مالک کے ذمّہ ہوگا، اور اگر  زمین کا مالک کرایہ کم لیتا ہے اور اس کے مقابلہ میں کرایہ دار کو بچت زیادہ ہوتی ہے تو ایسی صورت میں  زمین کا عُشر کرایہ دار کے ذمّہ لازم ہوگا، تو چوں کہ آج کل  زمین کا کرایہ عموماً  اُجرتِ مثل سے بھی کم ہوتا ہے، اور اس کے مقابلہ میں مستاجر (یعنی کرایہ دار) کو بچت بھی زیادہ ہوتی  ہے ، اس لیے موجودہ زمانے میں از روئے فتویٰ عُشر یا نصفِ عُشر کرایہ دار پر ہوگا ، ہاں  اگر کہیں زمین کی اُجرت زیادہ لینے کا رواج ہے جس کی وجہ سے  کرایہ دار کو  بچت کم ہوتی ہےتو ایسی صورت میں  عُشر یا نصفِ عُشر زمین کے مالک پر ہوگی، البتہ اگر زمین کی اُجرت بالکل مناسب ہو، زمین دار  اور کرایہ دار دونوں کو معتدبہٖ نفع مل رہاہو تو شرعی قواعد کی رو سے ہر ایک کو اپنے حصّے میں آنے والے پیداوار کے بقدر عُشر یا نصفِ عُشر ادا کرنا پڑےگا۔

باقی سائل کی زمین پر عُشر لازم ہوگی یا نصفِ عُشر تو اس بارے میں علاقے کے علماء و مفتیانِ کرام سے رہنمائی  لے لی جائے یا پھر زمین اور پیداوار کی تمام تفصیلات ذکر کرکے دوبارہ رجوع کریں۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"ولا تصح نية التجارة فيما خرج من أرضه العشرية أو الخراجية أو المستأجرة أو المستعارة لئلا يجتمع الحقان.

و في الرد: (قوله: ولا تصح نية التجارة إلخ) لأنها لا تصح إلا عند عقد التجارة، فلا تصح فيما ملكه بغير عقد كإرث ونحوه كما سيأتي ومثله الخارج من أرضه، لأن الملك يثبت فيه بالنبات، ولا اختيار له فيه، ولذا قال في البحر: وخرج أي بقيد العقد ما إذا دخل من أرضه حنطة تبلغ قيمتها نصابا، ونوى أن يمسكها ويبيعها فأمسكها حولا لا تجب فيها الزكاة كما في الميراث."

(كتاب الزكاة، ج:2، ص:268، ط:ايج ايم سعيد كراتشي)

و فيه أيضاً:

"والعشر على المؤجر كخراج موظف وقالا على المستأجر كمستعير مسلم: وفي الحاوي وبقولهما نأخذ.

و في الرد: (قوله: والعشر على المؤجر) أي لو أجر الأرض العشرية فالعشر عليه من الأجرة كما في التتارخانية وعندهما على المستأجر قال في فتح القدير: لهما أن العشر منوط بالخارج وهو للمستأجر وله أنها كما تستنمى بالزراعة تستنمى بالإجارة فكانت الأجرة مقصودة كالثمرة فكان النماء له معنى مع ملكه فكان أولى بالإيجاب عليه. اهـ......(قوله وبقولهما نأخذ) قلت: لكن أفتى بقول الإمام جماعة من المتأخرين كالخير الرملي في فتاواه وكذا تلميذ الشارح الشيخ إسماعيل الحائك مفتي دمشق وقال حتى تفسد الإجارة باشتراط خراجها أو عشرها على المستأجر كما في الأشباه......قلت: لكن في زماننا عامة الأوقاف من القرى والمزارع لرضا المستأجر بتحمل غراماتها ومؤنها يستأجرها بدون أجر المثل بحيث لا تفي الأجرة، ولا أضعافها بالعشر أو خراج المقاسمة، فلا ينبغي العدول عن الإفتاء بقولهما في ذلك؛ لأنهم في زماننا يقدرون أجرة المثل بناء على أن الأجرة سالمة لجهة الوقف ولا شيء عليه من عشر وغيره أما لو اعتبر دفع العشر من جهة الوقف وأن المستأجر ليس عليه سوى الأجرة فإن أجرة المثل تزيد أضعافا كثيرة كما لا يخفى فإن أمكن أخذ الأجرة كاملة يفتى بقول الإمام وإلا فبقولهما لما يلزم عليه من الضرر الواضح الذي لا يقول به أحد."

(كتاب الزكاة، باب العشر، ج:2، ص:334، ط:ايج ايم سعيد كراتشي)

فقط و اللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144511101827

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں