
عوام الناس میں ایک لطیفہ مشہور ہے کہ ایک فرشتہ ایک جنتی کو مار رہا تھا، پوچھنے پہ بتایا گیا کہ جنتی کہہ رہا تھا کہ ٹھیک ہے جنت بہت اچھی ہے مگر لاہور لاہور ہے۔ کیا اس قسم کا لطیفہ بیان کرنا، سننا، اس سے ایمان میں فرق تو نہیں آتا؟
ایک مسلمان کو دینی معاملات میں ہمیشہ ادب، سنجیدگی اور وقار کو ملحوظ رکھنا چاہیے، اور اسلامی عقائد اور مذہب سے متعلقہ امور و مسائل کو مذاق اور لطیفہ گوئی کا موضوع بنانے سے اجتناب کرنا چاہیے۔تاہم یہ بھی ملحوظ رہے کہ محاورات کی طرح عمومًا لطائف میں بھی ظاہری الفاظ کے بجائے معانی مقصود ہوتے ہیں، اس لیے ایسے لطائف کے ظاہری الفاظ پر مطلقًا حکم نہیں لگایا جاسکتا۔
مذکورہ لطیفے میں بظاہر فرشتے، جنت اور جنتی کا استخفاف و تحقیر مقصود نہیں، اس لیے سننے اور سنانے والے ایمان سے خارج نہیں ہوئے، تاہم اس میں بے ادبی کا ایک گونہ پہلو نکلتا ہے؛ لہٰذا احتیاطًا اس پر استغفار کرلینا چاہیے۔
البحر الرائق میں ہے:
’’و من تكلم بها اختيارا جاهلا بأنها كفر ففيه اختلاف والذي تحرر أنه لا يفتى بتكفير مسلم أمكن حمل كلامه على محمل حسن أو كان في كفره اختلاف و لو رواية ضعيفة فعلى هذا فأكثر ألفاظ التكفير المذكورة لايفتى بالتكفير بها و لقد ألزمت نفسي أن لاأفتي بشيء منها.‘‘
(البحر الرائق، کتاب الجہاد، باب أحكام المرتدين 5/ 135 ط: دار الكتاب الإسلامي)
فتاوی شامی میں ہے:
’’(و) اعلم أنه (لايفتى بكفر مسلم أمكن حمل كلامه على محمل حسن أو كان في كفره خلاف، و لو) كان ذلك (رواية ضعيفة) كما حرره في البحر، و عزاه في الأشباه إلى الصغرى. و في الدرر و غيرها: إذا كان في المسألة وجوه توجب الكفر و واحد يمنعه فعلى المفتي الميل لما يمنعه، ثم لو نيته ذلك فمسلم و إلا لم ينفعه حمل المفتي على خلافه.
و في الرد:
(قوله: و لو رواية ضعيفة) قال الخير الرملي: أقول: و لو كانت الرواية لغير أهل مذهبنا، و يدل على ذلك اشتراط كون ما يوجب الكفر مجمعًا عليه.‘‘
(رد المحتار، كتاب الجهاد، باب المرتد 4/ 230 ط: سعيد)
جامعہ کے سابقہ فتاوی میں ہے:
سوال:ایک آدمی نے بیوی سے کہا کہ کلمہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون ہیں ،بیوی نے جہالت کی وجہ سے کہا "شاید خدا کا بیٹا ہوگا"،عقیدہ مضبوط تو نہیں، لیکن جاہلہ ہے۔ کیا مرتد ہوگئی ہے؟ اگر ہوئی تو کیا کرناچاہیے؟
جواب: چوں کہ ارتداد و عدم ارتداد اعتقاد جازم پر ہے یعنی کوئی شخص اگر کوئی کلمہ کفریہ پورے یقین اور ارادہ سے کہے تب کافر ہوجائےگا لہذا محض جہالت کی وجہ سے یا ظن و گمان کے طور پر شاید کہ خدا کا بیٹا ہوگا کہنے سے کفر و ارتداد لازم نہیں آیا۔البتہ آئند کے لیے سمجھانا چاہیے اور اس قسم کے کلمات کفریہ کہنے سے روکنا ضروری ہے۔
کتبہ
ولی حسن ٹونکی
فتوی نمبر: 139404300062
ایک دوسرے فتوی میں ہے:
سوال: مسئلہ ایں کہ مسجد میں تین آدمی بیٹھے ہوئے تھے، جو کہ مسجد کمیٹی سے متعلق تھے، مؤذن صاحب نے ان کو کہا کہ ”یہ خدا اور رسول بیٹھے ہیں“ شرعاً کیا حکم ہے؟
جواب:ان الفاظ سے زید کافر نہیں ہوا، کیوں کہ ان الفاظ میں تاویل کی جاسکتی ہے، کہ یہ دونوں شخص حاکم اور مقنن ہیں، ان ہی کا حکم چلتا ہے، لیکن یہ کلمات خطرناک ہیں، توبہ واستغفار لازم ہے، ورنہ وہ مؤذن کے منصب کے لائق نہ ہوگا۔
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ :رضاء الحق
الجواب صحیح: ولی حسن ٹونکی
فتوی نمبر: 140302300061
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144510100781
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن