
مشورےکا مقصد کیا ہے ؟
مشورہ اسلامی معاشرتی زندگی کا ایک اہم ستون ہے، جس کے ذریعے انسان کو ہر سطح پر (انفرادی، اجتماعی اور انتظامی معاملات میں) بہتر فیصلے کرنے میں مدد ملتی ہے، قرآن و حدیث میں اس کی اہمیت کو بار بار بیان کیا گیا ہے،اور یہ حضورِ اکرم ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی سنت بھی ہے، اور یہ دنیا و آخرت میں باعثِ خیر و برکت ہے۔
قرآن کریم باری تعالی کا فرمان ہے:
قال اللّٰه تعالیٰ: ﴿وَشَاوِرْهُمْ فِیْ الْاَمْرِ﴾[اٰل عمران:159]
ترجمہ: ’’اور ان سے خاص خاص باتوں میں مشورہ لیتے رہا کیجیے۔‘‘
وقال تعالیٰ: ﴿وَاَمْرُهُمْ شُوْرٰی بَیْنَهُمْ﴾[الشوري:38]
ترجمہ:’’اور ان کا ہر کام آپس کے مشورے سے ہوتا ہے۔‘‘(از بیان القرآن)
مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"عن أنس مرفوعا: (ما خاب من استخار، ولا ندم من استشار، ولا عال من اقتصد)."
(كتاب الرقاق، باب التوكل والصبر، ج:8، ص:3326، ط:دار الفكر)
ترجمہ:”جس نے استخارہ کیا وہ (کبھی) خائب و خاسر نہ ہوا، جس نے مشورہ کیا وہ (کبھی) نادم و پیشمان نہ ہوا اور جس نے میانہ روی اختیار کی وہ (کبھی) فقیر نہ ہوا۔“
کنزالعمال میں ہے:
"من أراد أمرا فشاور فيه امرءا مسلما وفقه الله لأرشد أموره."
(الكتاب الثالث في الأخلاق، الفصل الثاني: في تعديد الأخلاق المحمودة، ج:3، ص:409، ط:مؤسسة الرسالة)
ترجمہ:’’جو شخص کسی کام کے بارے میں مشورہ کرنا چاہے، وہ کسی مسلمان سے مشورہ کرے، اللہ اس کے معاملات میں رہنمائی عطا فرمائے گا۔‘‘
سننِ ترمذی میں ہے:
"عن أبي هريرة قال: ما رأيت أحدا أكثر مشورة لأصحابه من رسول الله صلى الله عليه وسلم."
(باب ما جاء في المشورة، ج:3، ص:330، ط: دار الغرب الإسلامي - بيروت)
ترجمہ:’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اپنے اصحاب سے مشورہ کرنے والا کسی کو نہیں دیکھا۔‘‘
فقط وللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144508101339
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن