بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 ربیع الثانی 1448ھ 11 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ام محمد نام رکھنا

سوال

بیٹی کا نام ام محمد رکھنا کیسا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں بیٹی کا نام "ام محمد" رکھنا درست ہے؛ اگرچہ "ام" (یعنی "ماں") کی نسبت کی وجہ سے یہ اصلاً نام نہیں بلکہ کنیت ہے، تاہم کنیت کو بطورِ نام رکھنا جائز ہے۔ نیز یہ کنیت صحابیات اور تابعیات کی خواتین میں بھی منقول ہے، اس لیے ان کی نسبت سے یہ نام رکھنا باعثِ برکت بھی ہے۔

الكمال في أسماء الرجال میں ہے:

«أم محمد، امرأة أبي علي بن زيد بن جدعان، روت عن عائشة الصدّيقة، روى لها أبو داود والترمذي وابن ماجه».

(ذكر الكنى من النساء، ج:۱۰، ص:۲۰۶، ط: الهيئة العامة للعناية بطباعة ونشر القرآن الكريم والسنة، الكويت)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144504101051
تاریخ19-09-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں