
بیٹی کا نام ام محمد رکھنا کیسا ہے؟
صورتِ مسئولہ میں بیٹی کا نام "ام محمد" رکھنا درست ہے؛ اگرچہ "ام" (یعنی "ماں") کی نسبت کی وجہ سے یہ اصلاً نام نہیں بلکہ کنیت ہے، تاہم کنیت کو بطورِ نام رکھنا جائز ہے۔ نیز یہ کنیت صحابیات اور تابعیات کی خواتین میں بھی منقول ہے، اس لیے ان کی نسبت سے یہ نام رکھنا باعثِ برکت بھی ہے۔
الكمال في أسماء الرجال میں ہے:
«أم محمد، امرأة أبي علي بن زيد بن جدعان، روت عن عائشة الصدّيقة، روى لها أبو داود والترمذي وابن ماجه».
(ذكر الكنى من النساء، ج:۱۰، ص:۲۰۶، ط: الهيئة العامة للعناية بطباعة ونشر القرآن الكريم والسنة، الكويت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144504101051
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن