
پوچھنا یہ تھا کہ میرے پاس 40 لاکھ روپے ایک سال سے پڑے ہوئے ہیں اور سال ابھی نہیں گزرا اس پر مجھے 40 لاکھ روپے اور اگئے تو میں نے 80 لاکھ پر زکوۃ دینی ہے کہ صرف 40 لاکھ پر زکوۃ دینی ہے؟
صورتِ مسئولہ میں چوں کہ سائل پہلے ہی سے صاحبِ نصاب تھا، یعنی چالیس لاکھ روپے (جو مقدارِ نصاب سے کہیں زائد ہیں) ایک سال سے اس کی ملکیت میں موجود تھے، اور دورانِ سال جو مزید چالیس لاکھ روپے حاصل ہوئے وہ بھی اسی جنس (نقدی) سے ہیں، اس لیے یہ مالِ مستفاد اصل مال کے ساتھ ضم ہوکر اسی کے حول (سال) میں شمار ہوگا، اور اس پر الگ سے سال گزرنا ضروری نہیں۔
لہٰذا زکوٰۃ کی تاریخ آنے پر پورے اسّی لاکھ روپے پر زکوٰۃ واجب ہوگی، نہ کہ صرف پہلے چالیس لاکھ پر۔ چنانچہ اسّی لاکھ روپے کا ڈھائی فیصد یعنی دو لاکھ روپے بطورِ زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہوگا۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"ومن كان له نصاب فاستفاد في أثناء الحول مالا من جنسه ضمه إلى ماله وزكاه المستفاد من نمائه أولا وبأي وجه استفاد ضمه سواء كان بميراث أو هبة أو غير ذلك، ولو كان من غير جنسه من كل وجه كالغنم مع الإبل فإنه لا يضم هكذا في الجوهرة النيرة. فإن استفاد بعد حولان الحول فإنه لا يضم ويستأنف له حول آخر بالاتفاق هكذا في شرح الطحاوي. ثم إنما يضم المستفاد عندنا إلى أصل المال إذا كان الأصل نصابا فأما إذا كان أقل فإنه لا يضم إليه، وإن كان يتكامل به النصاب وينعقد الحول عليهما حال وجود النصاب كذا في البدائع."
(كتاب الزكاة،الباب الأول في تفسير الزكاة وصفتها و شرائطها،175/1،ط:رشيدية)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144504100800
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن