بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ربیع الاول 1448ھ 28 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

امام کی تاخیر پر مؤذن کا جماعت کھڑی کردینا اور دورانِ اقامت امام کا نماز کے لیے مؤذن کی جگہ مُصلے پر آنے کا حکم


سوال

 امام  کو نماز  کے لیے  دو منٹ  تاخیر ہوجائے، اور مؤذن نماز کے لئے مصلے پر آجائے اور دورانِ اقامت امام آجائے تو کیا امام کا نماز پڑھانے کے لیے مُصلے پر آنا درست ہوگا؟ جبکہ موذن پہلے سے مصلے پر موجود ہو۔

جواب

بصورت مسئولہ اگر مذکورہ مسجد میں جماعت کے اوقات گھڑی کے حساب سے متعین ہیں،تو امام پر اُن اوقات کی پابندی کرنا شرعاً و اخلاقاً لازم ہے،بلاعذر تاخیر کرنا جائز نہیں ہے کیوں کہ اِمام انتظامی معاملات میں بحیثیتِ اجیرِ خاص اوقات جماعت میں بروقت حاضری کا پابند ہے، نیز  جماعت کے اوقات مقرر ہوں تو  امام کی غفلت سے لوگوں کو تکلیف بھی ہوتی ہے، اور موجودہ زمانہ میں امام کے اِس لاپرواہی کی وجہ سے نہ صرف جماعت میں لوگ کم ہو سکتے ہیں، بلکہ عام لوگ دین اور دین دار طبقہ سے بھی متنفر  اور بدظن ہوجاتے ہیں۔ لہذا مذکورہ عوامل کی بنیاد  پر مسجد   میں متعینہ وقت پر جماعت کھڑی کرنے کا اہتمام کرنا اور اس کی پابندی کرنا   ضروری ہے۔ البتہ اگر امام صاحب وقت کے پابند ہوں اور کسی دن بوجہ عذر دو چار منٹ تاخیر کا شکار ہوگئے ہوں  تو  ان کا انتظار کرلینا چاہیے، امام کی تاخیر پر معمولی سا انتظار کر کے نماز کھڑی کردینا شرعاً و اخلاقاً درست نہیں ہے۔

بہرکیف اگر امام صاحب کی تاخیر کی بنیاد پر مؤذن نے جماعت کھڑی کردی ہواور باقاعدہ نماز شروع ہوچکی ہو،تو  مؤذن کے نماز پڑھانے کے  درمیان مقررہ امام کا مُصلے پر آنا اور مؤذن کو پیچھے کرنا درست نہیں۔اور اگر نماز شروع ہونے سے قبل دورانِ اقامت امام تشریف لے آئے تو مسجد کے مستقل امام ہونے کی حیثیت سے وہی امامت کا زیادہ حقدار ہے،اِس صورت میں مؤذن کو چاہیے کہ وہ ازخود پیچھے ہوجائے تاکہ امام  مُصلے پر آکر خود نماز پڑھائے۔البتہ اگر امام بذات خود  مؤذن کو نماز پڑھانے کی اجازت دے دے تو وہ نماز پڑھا سکتا ہے۔ کیوں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الوفات میں جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ  مسجد نبوی میں نماز  پڑھارہے تھے، ایک روز آپ علیہ الصلاۃ والسلام مرض میں قدرے افاقہ کی بنیاد پر سہارا لے کر دورانِ نماز حجرہ مبارکہ سے باہر تشریف لائے،اورحضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کو آتے دیکھاتو  مُصلۂ امامت سے پیچھے ہٹنے لگے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کی امامت خود سنبھال لیں، لیکن رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ  سے انہیں پیچھے جانے سے منع فرمایااور نماز کی امامت جاری رکھنے کاحکم دیا تھا۔اور خود رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بیٹھ کر اقتداء فرمائی تھی ۔

نماز کے مسائل کا انسائیکلوپیڈیا میں ہے:

"موجودہ زمانہ کے لوگ ایک طرف دنیوی مشاغل میں بہت زیادہ مصروف ہیں، دوسری طرف دین سے بے انتہا غافل اور لا پرواہ ہیں، اگر مقررہ وقت پر جماعت کھڑی نہیں کی جائے گی تو لوگ بھاگ جائیں گے، اس لئے متعینہ وقت پر جماعت کھڑی کرنے کا اہتمام کرنا اور اس کی پابندی کرنا بے انتہا ضروری ہے تا کہ جماعت میں لوگ کم نہ ہو جائیں۔

البتہ اگر کسی بشری تقاضا کی وجہ سے کبھی کبھار امام کو چار پانچ منٹ تاخیر ہو جائے تو بے صبری کا مظاہرہ نہ کریں بلکہ صبر و تحمل سے کام لیں، اور اگر امام صاحب ہمیشہ تاخیر سے آنے کے عادی ہیں تو انہیں نرمی سے سمجھانے کی کوشش کریں، اگر سمجھ جاتے ہیں اور وقت کی پابندی کرتے ہیں تو بہتر ورنہ ان کو عزت کے ساتھ معزول کرنے کی اجازت ہوگی لیکن بد زبانی اور غیبت کرنے کی ہرگز اجازت نہیں ہوگی ۔ "

(بعنوان :وقت متعین کا اہتمام لازم ہے،ج:۴، ص:۳۴۷، ط:بیت العمار -کراچی)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"(فأرسل النبي صلى الله عليه وسلم إلى أبي بكر: بأن) : وفي نسخة لأن (يصلي بالناس، فأتاه الرسول) أي: رسول النبي صلى الله عليه وسلم، وهو بلال المؤذن، قاله العسقلاني. (فقال: إن رسول الله) : وفي نسخة: النبي (صلى الله عليه وسلم يأمرك أن تصلي بالناس، فقال أبو بكر - وكان رجلا) : جملة معترضة مقول عائشة (رقيقا -) أي: رقيق القلب فلم يقدر أن يقوم مقامه صلى الله عليه وسلم، أو كان رحيما لطيفا متواضعا خليقا، وقال ابن حجر: أي هينا لينا ضعيفا، وفي رواية: إنه رجل أسيف من الأسف وهو شدة الحزن والبكاء، والمراد به رقيق القلب، وفسره أحد رواته بأنه رقيق رحيم (يا عمر! صل بالناس) : كأنه علم بالقرائن أنه - عليه السلام - لم يعينه على جهة الإلزام له، كذا ذكره ابن حجر، أو بناء على تواضعه وجواز الإذن لغيره، سيما مع ظهور عذره مما يوجب البكاء في قيامه مقامه مع كمال رقة قلبه، ورأى أن عمر أقوى قلبا منه (فقال له عمر: أنت أحق بذلك) أي: في نفس الأمر، أو لاختصاصه بالأمر الذي يترتب عليه الأمور (فصلى أبو بكر تلك الأيام) أي: أيام المرض كلها من الصلوات السبعة عشر  (ثم إن النبي صلى الله عليه وسلم وجد من نفسه) : وفي نسخة: في نفسه (خفة) أي: من المرض وقوة على الخروج إلى الجماعة (وخرج بين رجلين أحدهما: العباس) : والآخر: علي، كما سيأتي (لصلاة الظهر، وأبو بكر يصلي بالناس، فلما رآه أبو بكر ذهب) أي: شرع (ليتأخر، فأومأ) أي: أشار (إليه النبي صلى الله عليه وسلم بأن لا يتأخر، قال: " أجلساني إلى جنبه "، فأجلساه إلى جنب أبي بكر، والنبي صلى الله عليه وسلم قاعد..الخ."

(كتاب الصلاة، باب ما على المأموم من المتابعة وحكم المسبوق، ج:2، ص:882، ط:دارالفكر)

فتاوی شامی میں ہے:

"(و) اعلم أن (‌صاحب ‌البيت) ومثله إمام المسجد الراتب (أولى بالإمامة من غيره) مطلقا.

وفي الرد:(قوله مطلقا) أي وإن كان غيره من الحاضرين من هو أعلم وأقرأ منه".

(كتاب الصلاة، باب الإمامة، ج:1، ص:559، ط:سعيد)

وفيه ايضا:

"فالحاصل أن التأخير القليل لإعانة أهل الخير غير مكروه."

(کتاب الصلاۃ،باب صفۃ الصلاۃ،ج:1،ص:495،ط:سعید)

وفيه ايضا:

"(والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو) شهرا (لرعي الغنم) المسمى بأجر مسمى......وليس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل."

(کتاب الإجارۃ , باب ضمان الأجیر، ج:6، ص:69-70، ط:سعيد)

فقط والله تعالى اعلم


فتویٰ نمبر : 144503101458

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں