
میں ابھی بارہویں جماعت میں پڑھ رہا ہوں اور دینی تعلیم میں درجہ اولی پڑھ رہا ہوں میں ،باہر جانا چاہتا ہوں اپنی عصری تعلیم مکمل کرنے کے لیے دوسرے ملک جانا چاہتا ہوں، لیکن چونکہ میں دینی تعلیم بھی ساتھ ساتھ پڑھ رہا ہوں تو اس لیے کیا میں یہ دینی تعلیم تھوڑے وقت کے لیے چھوڑ کر اپنی عصری تعلیم مکمل کرنے کے لیے باہر جا سکتا ہوں۔
صورتِ مسئولہ میں اگر سائل نے بقدرِ فرض اور ضروری علم حاصل کرلیا ہے اور فرضِ کفایہ کے درجے کے دینی علم سیکھ رہا ہو تو سائل کے لیے دینی تعلیم کو تھوڑے عرصے کے لیےموقوف کرکے عصری تعلیم کی تکمیل کے لیے دوسرے ملک میں جانے کی گنجائش ہے، بشرطیکہ غیر مسلم ملک میں جانے کی صورت میں اپنے عقائد اوراعمال کی حفاظت میں خلل واقع نہ ہو۔
بذل المجہود میں ہے:
"حدثنا محمد بن داود بن سفيان، حدثني يحيى بن حسان قال: أنا سليمان بن موسى) وكنيته (أبو داود قال: نا جعفر بن سعد بن سمرة بن جندب قال: حدثني خبيب بن سليمان، عن أبيه سليمان بن سمرة، عن سمرة بن جندب: أما بعد، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من جامع المشرك) أي: اجتمع معه في دار أو بلد، والأحسن أن يقال: معناه اجتمع معه، أي: اشترك في الرسوم والعادة والهيئة والزي، وأما قوله: (وسكن معه) علة له، أي: سكناه معه صار علة لتوافقه في الهيئة والزي والخصال (فإنه مثله) نقل في الحاشية عن "فتح الودود": فإنه مثله، أي: يقارب أن يصير مثلًا له لتأثير الجوار والصحبة، ويحتمل أنه تغليظ."
(باب في الإقامة بأرض الشرك،ج: 9، ص: 525، رقم الحدیث:2887، ط:مرکز الشیخ ابوالحسن الندوی ،الھند)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144503100084
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن