
آزادی کا جشن منانا کیسا ہے ؟ اس میں ریلی نکالنا اور اس ریلی میں شرکت کرنا کیسا ہے ؟ریلی میں ڈی جے بجانا جس میں موسیقی کی جگہ نظم بجانا کیسا ہے،اور اس پر نوجوان ناچتے ہیں، اس کا کیا حکم ہے ؟ ہمارے یہاں ریلی میں مرد عورت کا اختلاط بھی ہوتا ہے، ایسی ریلی کا کیا حکم ہے ؟
واضح رہے کہ وطن کی آزادی عظیم نعمت ہے، اور اس نعمت پر اداءِ شکر کے لیے شرعی حدود میں رہتے ہوئے خوش ہونا اور اس کا اظہار کرنا جائز ہے۔ نیز اگر اس موقع پر بغیر موسیقی کے ملّی نظمیں چلائی جائیں بشرطیکہ ان کی بلند آواز باعثِ ایذا و تکلیف نہ ہو تو ایسا کرنے میں حرج نہیں ہے۔
باقی ناجائز امور (مثلًا:باجے بجانا، ناچ گانا، مردو عورت کا اختلاط، راستوں کی بندش،راہ گیروں کی تکلیف وغیرہ) سے بچتے ہوئے یومِ آزادی کی مناسبت سے ریلی نکالنے کی بھی گنجائش ہے۔
وَ إِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ أَنجَاكُم مِّنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَسُومُونَكُمْ سُوءَ الْعَذَابِ وَيُذَبِّحُونَ أَبْنَاءَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَاءَكُمْ ۚ وَفِي ذَٰلِكُم بَلَاءٌ مِّن رَّبِّكُمْ عَظِيمٌ (6) وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ ۖ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ (7) [ابراهيم:6،7]
ترجمہ: وہ وقت یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ : اللہ نے تم پر جو انعام کیا ہے، اسے یاد رکھو کہ اس نے تمہیں فرعون کے لوگوں سے نجات دی، جو تمہیں بدترین تکلیفیں پہنچاتے تھے، اور تمہارے بیٹوں کو ذبح کر ڈالتے، اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے، اور ان تمام واقعات میں تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارا زبردست امتحان تھا۔اور وہ وقت بھی جب تمہارے پروردگار نے اعلان فرما دیا تھا کہ اگر تم نے واقعی شکر ادا کیا تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا، اور اگر تم نے ناشکری کی تو یقین جانو، میرا عذاب بڑا سخت ہے۔ (آسان ترجمہ قرآن، از مفتی محمد تقی عثمانی صاحب)
وَاذْكُرُوا إِذْ أَنتُمْ قَلِيلٌ مُّسْتَضْعَفُونَ فِي الْأَرْضِ تَخَافُونَ أَن يَتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَآوَاكُمْ وَأَيَّدَكُم بِنَصْرِهِ وَرَزَقَكُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ [الأنفال: 26]
ترجمہ: اور وہ وقت یاد کرو جب تم تعداد میں تھوڑے تھے، تمہیں لوگوں نے (تمہاری) سرزمین میں دبا کر رکھا ہوا تھا، تم ڈرتے تھے کہ لوگ تمہیں اچک کرلے جائیں گے۔ پھر اللہ نے تمہیں ٹھکانا دیا، اور اپنی مدد سے تمہیں مضبوط بنادیا، اور تمہیں پاکیزہ چیزوں کا رزق عطا کیا، تاکہ تم شکرو کرو۔ (آسان ترجمہ قرآن، از مفتی محمد تقی عثمانی صاحب)
صحیح مسلم میں ہے:
"عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا « أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَوَجَدَ الْيَهُودَ صِيَامًا يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي تَصُومُونَهُ؟ فَقَالُوا: هَذَا يَوْمٌ عَظِيمٌ، أَنْجَى اللهُ فِيهِ مُوسَى وَقَوْمَهُ، وَغَرَّقَ فِرْعَوْنَ وَ قَوْمَهُ، فَصَامَهُ مُوسَى شُكْرًا، فَنَحْنُ نَصُومُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَنَحْنُ أَحَقُّ وَ أَوْلَى بِمُوسَى مِنْكُمْ، فَصَامَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ أَمَرَ بِصِيَامِهِ."
(صحيح مسلم، كتاب الصيام، باب يوم عاشوراء 3/ 150 ط: دارا لمنهاج)
سنن أبي داود میں ہے:
"حدثنا مسلم بن إبراهيم قال: نا سلام بن مسكين ، عن شيخ «شهد أبا وائل في وليمة، فجعلوا يلعبون يتلعبون يغنون، فحل أبو وائل حبوته وقال: سمعت عبد الله يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إن الغناء ينبت النفاق في القلب."
(باب كراهية الغناء والزم،٤٣٥/٤،ط : المطبعة الأنصارية بدهلي)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144502102240
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن