بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ربیع الاول 1448ھ 24 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

یوم ِآزادی پر ہمیں کیا کرناچاہیے؟


سوال

14   اگست یوم ِآزادی پر ہمیں کیا کرناچاہیے ؟

جواب

واضح رہے کہ آپ کے سوال کا جواب تفصیل کا متقاضی ہے، تاہم مختصرًا عرض ہے کہ  14 اگست کو آزادی کی نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جائے،ملک سے تجدیدِ عہد وفا کے ساتھ وطنِ عزیز  کی   سلامتی، استحکام اور ترقی کی دعائیں  کی جائیں۔

اور ناجائز امور سے بچتے ہوئے اس دن خوشی منائی جاسکتی ہے۔

وَ إِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ أَنجَاكُم مِّنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَسُومُونَكُمْ سُوءَ الْعَذَابِ وَيُذَبِّحُونَ أَبْنَاءَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَاءَكُمْ ۚ وَفِي ذَٰلِكُم بَلَاءٌ مِّن رَّبِّكُمْ عَظِيمٌ (6)وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ ۖ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ(7) [ابراهيم:6،7]

ترجمہ: وہ وقت یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ : اللہ نے تم پر جو انعام کیا ہے، اسے یاد رکھو کہ اس نے تمہیں فرعون کے لوگوں سے نجات دی، جو تمہیں بدترین تکلیفیں پہنچاتے تھے، اور تمہارے بیٹوں کو ذبح کر ڈالتے، اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے، اور ان تمام واقعات میں تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارا زبردست امتحان تھا۔اور وہ وقت بھی جب تمہارے پروردگار نے اعلان فرما دیا تھا کہ اگر تم نے واقعی شکر ادا کیا تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا، اور اگر تم نے ناشکری کی تو یقین جانو، میرا عذاب بڑا سخت ہے۔ (آسان ترجمہ قرآن، از مفتی محمد تقی عثمانی صاحب)

وَاذْكُرُوا إِذْ أَنتُمْ قَلِيلٌ مُّسْتَضْعَفُونَ فِي الْأَرْضِ تَخَافُونَ أَن يَتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَآوَاكُمْ وَأَيَّدَكُم بِنَصْرِهِ وَرَزَقَكُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ  [الأنفال: 26]

ترجمہ: اور وہ وقت یاد کرو جب تم تعداد میں تھوڑے تھے، تمہیں لوگوں نے (تمہاری) سرزمین میں دبا کر رکھا ہوا تھا، تم ڈرتے تھے کہ لوگ تمہیں اچک کرلے جائیں گے۔ پھر اللہ نے تمہیں ٹھکانا دیا، اور اپنی مدد سے تمہیں مضبوط بنادیا، اور تمہیں پاکیزہ چیزوں کا رزق عطا کیا، تاکہ تم شکرو کرو۔ (آسان ترجمہ قرآن، از مفتی محمد تقی عثمانی صاحب)

صحیح مسلم میں ہے:

"عَنِ ‌ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا « أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَوَجَدَ الْيَهُودَ صِيَامًا يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي تَصُومُونَهُ؟ فَقَالُوا: هَذَا يَوْمٌ عَظِيمٌ، أَنْجَى اللهُ فِيهِ مُوسَى وَقَوْمَهُ، وَغَرَّقَ فِرْعَوْنَ وَ قَوْمَهُ، ‌فَصَامَهُ ‌مُوسَى ‌شُكْرًا، فَنَحْنُ نَصُومُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَنَحْنُ أَحَقُّ وَ أَوْلَى بِمُوسَى مِنْكُمْ، فَصَامَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ أَمَرَ بِصِيَامِهِ."

(صحيح مسلم، كتاب الصيام، باب يوم عاشوراء 3/ 150 ط: دارا لمنهاج)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144501102379

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں