بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ربیع الاول 1448ھ 24 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

سونا چاندی کی روپے سے خرید وفروخت


سوال

سونے چاندی کی خریدو فروخت جبکہ روپیہ سے ہورہی ہو کیا اب بھی یعنی آج کے دور میں بھی کیا یہ بیع صرف میں داخل ہوگی ؟حالانکہ سب کو معلوم ہے کہ اب اس روپیہ کے پیچھے سونا چاندی نہیں رہی ،اب یہ نوٹ محض ایک کاغذ کا درجہ رکھتے ہیں، اس بارے میں کافی تشویش ہے، چونکہ دوسری طرف بعض علماء کرام نے اس بابت یہی فتویٰ جاری بھی کیا ہے کہ سونے چاندی کی خرید و فروخت بیع صرف نہیں اور ان کی مذکورہ بالا دلیل مضبوط بھی معلوم ہوتی ہے، اسلئے آپ حضرات سے گزارش ہے  کہ اپنے موقف کے بارے میں آج کے دور کے حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے موقف پہ دلائل مرحمت فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ موجودہ کرنسی  چاہے وہ پاکستانی روپیہ ہو یاڈالر یا پونڈ وغیرہ ہو  ،اس کی حیثیت  قائم مقام ثمن اور اصطلاحی ثمن کی ہی ہے ،اس کرنسی کے پیچھے اگرچہ سونا چاندی نہیں ہے ، لیکن یہ خود ثمن  کا درجہ اختیار کرچکی ہیں ،لہذ جس طرح حقیقی ثمن یعنی سونا اور چاندی کے عوض   سونا اور چاندی کو  خریدا جائے تو اس پر بیع صرف کے احکام جاری ہوتے ہیں ،تو اسی طرح اصطلاحی ثمن یعنی موجودہ  کرنسی کے عوض  اگر  سونا چاندی کو  خریدا جائے تو اس پر بھی بیع صرف والے احکام  جاری  ہوں گے ۔موجودہ کرنسی کے ثمن اصطلاحی ہونے پر    سابق رئیس دار الافتاءحضرت مفتی عبد السلام  رحمہ صاحب   کی تحریر سے اقتباس  نقل کیا جاتا ہے :

ــ’’شرعی تجارتی اصول اور قوانین پر غور کرنے سے جو بات سمجھ  میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ کرنسی  نوٹ  ( کاغذی  سکے ) قائم مقام ثمن اور اصطلاحی ثمن ہیں ، جس طرح حقیقی زر  ( سونا و چاندی ) کو زکوۃ  اور صدقات واجبہ میں اور معاملات کے اندر احد البدلین کے معاوضہ میں استعمال کرنا درست ہے اسی طرح کاغذی سکوں کو زکوۃ  و صدقہ و دیگر معاملات میں استعمال کرنا جائز ہے جیسا کہ اس کا رواج بھی ہے ،کاغذی سکہ ہی عرصہ دارز سے اکثر  ممالک میں اور تمام معاملات میں گردش کررہا ہے ،بیع مطلق ،بیع مقایضہ ،بیع صرف سے لے کر  بیع سلم ،مضاربت ،اجارہ ،ہر قسم کے لین دین میں بھی بطور عوض احد البدلین  کی حیثیت سے کاغذی کرنسی (ڈالر،پونڈ ،روپے  ،ٹاکا ،دینار ،درہم ،ریال وغیرہ ) کو استعمال کیا جاتا ہے اور کسی فریق  کے ذہن وخیا ل میں اس بات کا تصور پیدا نہیں ہوتا کہ یہ حوالہ یا رسید ہے ،مجھے اس کے بدلہ میں سونا ملے گا ،چاندی ملے گی پھر بازار میں جاکر اسے بیچنا پڑے گا ۔

لہذا اگر کاغذی زر کو حقیقی زر کی طرح قائم مقام ثمن نہ قرار دیا جائے ،بلکہ اسے رسید یا حوالہ کہا جائے تو اس سے ہمارے اکثر بلکہ تمام معاملات کا فاسد یا باطل ہونا لازم آتا ہے ،حالانکہ تجارتی معاملات میں خرید و فروخت کرنے والوں میں فقہ اور مسائل کے جاننے والے  ،قرآن و حدیث کو سمجھنے والے حضرات بھی موجود اور مبتلا ہیں ،انہی کاغذی سکوں سے بیع صرف ،بیع سلم کرنے والے بھی ،عقد مضاربت کرنے والے بھی ہیں ،عقد اجارہ بھی ،غرض تمام معاملات کا دار و مدار کاغذی سکوں پر ہی ہوتا ہے اور میرے خیال میں سب اس کو جائز سمجھ کر کرتے ہیں اور آج تک کسی عالم نے یہ مسئلہ بیان نہیں کیا نہ کسی مفتی صاحب نے یہ فتوی دیا کہ ان کاغذی سکوں سے بیع صرف یعنی سونا و چاندی کی خرید و فروخت جائز نہیں ہے یا عقد مضاربت اور بیع سلم جائز نہیں ہے جبکہ ان معاملات میں کے لیے احد البدلین کا نقد ثمن ہونا ضروری ہے ،مثلا بیع صرف میں ثمن کی بیع ثمن سے ہوتی ہے اس لیے اس میں ادھار ناجائز ہے ،نقدین کا تقابض بھی ضروری ہے ،سونا اور چاندی کو نوٹوں سے خریدنا باتفاق جائز ہے اور بیع سلم میں اور مضاربت میں یہ ضروری ہے کہ احد البدلین راس المال ثمن اور نقد ہو ،اگر کاغذی سکوں کو قائم مقام نقد اور بدل ثمن قرارنہیں دیا جاتا تو تمام عقد صرف ،سونا چاندی کی خرید  و فروخت اور عقد مضاربت ،بیع سلم وغیرہ سب معاملات کا فاسد اور باطل ہونا لازم آتا ہے ،حالانکہ دینا کے تمام اہل علم اور اہل دانش اس پر متفق ہیں کہ کاغذی سکوں سے جس طرح بیع صرف اور بیع سلم جائز ہے اسی طرح عقد مضاربت بھی جائز ہے۔

جس سے واضح ہوا کہ عملا تمام معاملات میں کاغذی سکے (کاغذی زر ) خواہ ڈالر ہو یا پونڈ ،ریال یا روپیہ وغیرہ  کو قائم مقام  ثمن اور بدل نقد تسلیم کرلیا گیا ہے ،لہذا تمام معاملات میں جب کاغذی زر کو حققی زر سونا و چاندی کے قائم مقام تسلیم کرلیا گیا تو کیا وجہ ہے عبادات میں زکوٰۃ و عشر صدقات کے وجوب اور اس کی ادائیگی میں کاغذی سکے کو بدل ثمن اور قائم مقام نقد تسلیم نہ کیا جائے ،اس لیے ہم شروع سے دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیہ کی جانب سے یہ فتوی دیتے چلے آرہے ہیں کہ کاغذی سکے قائم مقام ثمن اور اصطلاحی زر ہیں اور اصول ہے قائم مقام ثمن اور اصطلاحی زر کا وہی حکم ہے جو ثمن اور حقیقی زر کا ہوتا ہےجس طرح تمام حقوق اور معاملات اور خرید وفروخت میں کاغذی سکوں  کو بحیثیت مال تسلیم کرکے استعمال کرنا جائز ہے اسی طرح عبادات یعنی زکوٰۃ و عشر صدقہ وخیرات میں بھی اسے بدل ثمن و اصطلاحی زر کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔۔۔ کاغذی سکے اور کرنسی نوٹ قائم مقام زر اور اصطلاحی ثمن ہیں اور عرفا مال ہیں ،چنانچہ ابن عابدین الشامی رحمہ اللہ ’’ مال ‘‘ کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

"المراد بالمال ما يميل إليه الطبع ويمكن ادخاره لوقت الحاجة"

"اصطلاح شرع میں مال وہ ہے  جس کی طرف طبیعت کا میلان ہو اور ضرورت کے وقت ذخیرہ کیا جاسکتا ہو ۔"

ممکن ہے کہ کسی کو یہ شبہ ہو کہ یہاں  پر مال سے مراد وہ چیز ہے جو پیدائشی طور پر قیمتی ہونے کی وجہ سے اس کی طرف طبیعت کا میلان ہو ،جیساکہ سونا چاندی ،کاغذی نوٹ چونکہ ایسے نہیں ہیں اس لیے مال کی تعریف میں وہ نہیں آتے اس کا جواب یہ ہے کہ یہ شبہ ظاہر اور فقہاء کی تصریحات کے بالکل خلاف ہے لہذا معتبر نہیں ،کیونکہ فقہاء کرام نے مال ہونے کے لیے یہ شرط نہیں لگائی کہ پیدائشی طور پر قیمتی ہو اور اسی وجہ سے طبیعت کا اس کی طرف میلان ہو  بلکہ انہوں نے یہ تصریح کی ہے لوگوں نے جس چیز کو مال تسلیم کرلیا ہو اور اس کے مال نہ ہونے پر نص شرعی موجود نہ ہو وہ مال ہے ،چنانچہ ’’صاحب رد المحتار ـ‘‘لکھتے ہیں :

"المالية تثبت بتمول الناس كافة أو بعضهم"

’’اور چیزوں میں ) مالیت اس سے بھی ثابت ہوجاتی ہے کہ پوری قوم یا اس کی اکثریت کسی چیز کو مال قرار دے۔‘‘

(جواہر الفتاوی ،ج:1 ص:416 ط:اسلامی کتب خانہ )

حاصل یہ ہے کہ  موجودہ کرنسی نوٹ کی حیثیت اصطلاحی ثمن اور قائم مقام ثمن کے ہے ،اس کے عوض سونےا ور چاندی کی خرید وفروخت  پر بیع صرف والے ہی احکام جاری ہوں گے ،مزید تفصیل کے لیے جواہر الفتاوی ( جلد اول ،صفحہ 416 تا 428 ) کا مطالعہ کرلیں۔

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144402101286

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں