بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ربیع الاول 1448ھ 23 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

ویڈیو کالنگ کے ذریعے نکاح سے متعلق ایک اشتباہ اور اس کی وضاحت


سوال

سوال:

ویڈیو کالنگ میں اگر دونوں فریق ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوں اور کسی قسم کا کوئی اشتباہ نہ ہو تو نکاح منعقد ہوگا یا نہیں؟

الجواب:

نکاح کے انعقاد کے لیے ضروری ہے کہ ایجاب و قبول ایک ہی مجلس میں اس طرح ہوں کہ فریقین ایک دوسرے کا کلام سن سکیں اور گواہ ایجاب اور قبول دونوں کو سن سکیں۔ ایجاب و قبول کی مجلس ایک ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ایجاب اور قبول کے درمیان کوئی ایسا فعل نہ پایا جائے جو اعراض اور انکار پر دلالت کرتا ہو۔ مکان کے اعتبار سے ایجاب و قبول کا ایک جگہ ہونا ضروری نہیں ہے۔ چنانچہ فقہائے  کرام نے خط کے ذریعے ایجاب کو درست قرار دیا ہے اور جس مجلس میں خط پڑھا جائے گا اس میں قبول کرنے کو معتبر سمجھا ہے۔ معروف ویڈیو کالنگ میں بھی چوں کہ خط کی طرح مجلس معنوی طور پر متحد ہوتی ہے اور گواہ ایجاب اور قبول دونوں کا مشاہدہ و سماع کرسکتے ہیں؛ لہذا اس کے ذریعے نکاح منعقد ہو جائے گا۔ البتہ اگر کوئی ایسی صورت پائی جائے جس میں جانبین یا گواہ دونوں جانب سے ایجاب اور قبول کو سن نہ سکیں تو اس صورت میں نکاح بھی نہیں ہوگا۔

اس جواب میں آپ کا مؤقف یہ سمجھ میں آرہا ہے کہ اس طرح معروف ویڈیو کالنگ کے ذریعے مجلس ایک ہو جاتی  ہے اور نکاح درست ہوجاتا ہے ، جب کہ باقی فتاویٰ میں آپ کا مؤقف لکھا ہوا ہے کہ یوں نکاح نہیں ہوتا۔

جواب

مذکورہ سوال اور جواب ،جو آپ  نے ویب سائٹ سے نقل کئے ہیں، یہ ہمارے جامعہ کے دارالافتاء کا مؤقف نہیں  ہے، بلکہ یہ سوال و جواب  ایک "سوال "کے تحت ذکر کیے گئے ہیں، اور ایک ادارے کی جانب سے یہ سوال اور اس کا جواب موصول ہوا تھا، اور ہم سے یہ دریافت کیا گیا تھا کہ آپ کے دارالافتاء کا اس بارے میں کیا مؤقف ہے؟!چناں چہ اس استفتاء اور اس کے جواب سے  متعلق جو جواب دیاگیا اس میں اس صورت کو ناجائز لکھا گیا ہے، لہذا ہمارا مؤقف اس سلسلہ میں حسب سابق عدم جواز کا ہی ہے۔ذیل میں اس استفتاء اور جواب سے متعلق دیا گیا جواب دوبارہ نقل کیا جاتاہے:

ویڈیو کالنگ کے ذریعے نکاح کے منعقد ہونے سے متعلق آپ کے مذکورہ جواب پر غور کیا گیا، دارالافتاء میں مفتیانِ کرام سے بھی اس بابت مشورہ کیا گیا، غور وخوض اور مشورے کے بعد مذکورہ تحقیق سے اتفاق نہیں ہوسکا،  جس کی تفصیل اور مذکورہ مسئلہ کا شرعی حکم مندرجہ ذیل ہے:

شریعت نے نکاح کے انعقاد کے لیے ایک ضابطہ رکھا ہے، اور وہ ضابطہ یہ ہے کہ شرعاً نکاح کے صحیح ہونے کے لیے ایجاب و قبول کی مجلس ایک ہو اور اس میں جانبین میں سے دونوں کا بنفسِ نفیس یاان کے وکیل کا موجود ہونا شرط اورضروری ہے، نیز مجلسِ نکاح میں دو گواہوں کا ایک ساتھ موجود ہونا اور دونوں گواہوں کا اسی مجلس میں نکاح کے ایجاب و قبول کے الفاظ کا سننا بھی شرط ہے۔ اور اگر جانبین میں سے کوئی ایک مجلس نکاح میں موجود نہ ہو تو اس صورت میں اپنا وکیل مقرر کرے ، پھر یہ وکیل اپنے مؤکل کی طرف سے اس کا نام مع ولدیت لے کر مجلس نکاح میں ایجاب وقبول کریں، تو نکاح منعقد ہوجائے گا۔ پھر نکاح کی جس مجلس میں فریقین بنفسِ نفیس شریک ہوں تو وہ مجلس حقیقتاً مجلس کے حکم میں ہے اور جس مجلس میں فریقین میں سے ایک یا دونوں کی جانب سے وکیل ہوں تو وہ حکماً مجلس کے حکم میں ہے۔

موجودہ دور میں ویڈیو کالنگ کے ذریعے نکاح کے انعقاد کی جو صورت اختیار کی جاتی ہے اس میں مجلس کی شرط مفقود ہوتی ہے؛ کیوں کہ شرعاً نہ تو یہ صورت حقیقتاً مجلس کے حکم میں ہے اور نہ ہی حکماً، کیوں کہ وہ ایک مجلس ہی نہیں ہوتی، بلکہ فریقین دو مختلف جگہوں پر ہوتے ہیں، جب کہ ایجاب و قبول کے لیے عاقدین کی مجلس ایک ہونا ضروری ہے۔ لہذا ویڈیو کالنگ کے ذریعے نکاح منعقد کرنا درست نہیں ہے۔

ویڈیو کالنگ کے ذریعے نکاح کے جواز  کو ’’خط کے ذریعے نکاح کے جواز‘‘ سے استدلال کرنا درست نہیں؛ کیوں کہ خط کے ذریعے نکاح کا جو پیغام فریقِ ثانی کو بھیجا جاتا ہے اور یہ خط جس مجلس میں کھول کر پڑھا جاتاہے وہ نکاح کی مجلس ہوتی ہے، اگر فریقِ ثانی گواہوں کی موجودگی میں اس پیغام کو پڑھ کر قبول کرلیتا ہے تو نکاح منعقد ہوجاتا ہے، اور اگر انکار کرتا ہےیا اس مجلس سے الگ ہوجاتا ہے تو یہ پیغام کالعدم ہوجاتا ہے، اور نکاح منعقد نہیں ہوتا۔

اور ویڈیو کالنگ میں پیغام بھیجا نہیں جاتا ہے، اور فریقِ اول کے پاس جو گواہ ہیں وہ گواہ دوسرے فریق کے پاس نہیں ہوتے، بلکہ وہ الگ الگ ہوتے ہیں، اس لیے دونوں گواہوں اور ایجاب و قبول کی مجلس ایک نہیں ہوتی، حال آں کہ مجلس ایک ہونا ضروری ہے، اس لیے ویڈیو کالنگ کو خط پر محمول کرکے نکاح کو درست قرار دینا صحیح نہیں ہے۔

البحر الرائق میں ہے:

"ومنها سماع كل منهما كلام صاحبه لأن عدم سماع أحدهما كلام صاحبه بمنزلة غيبته كما في الوقاية، وقيد المصنف انعقاده باللفظ؛ لأنه لا ينعقد بالكتابة من الحاضرين فلو كتب تزوجتك فكتبت قبلت لم ينعقد."

(البحر الرائق: كتاب النكاح، ج:3 ص:89، ط: دار الكتاب الإسلامي)

فتاوى هندیہ میں ہے:

"(ومنها) سماع كل من العاقدين كلام صاحبه هكذا في فتاوى قاضي خان ولو عقدا النكاح بلفظ لا يفهمان كونه نكاحا ينعقد، وهو المختار هكذا في مختار الفتاوى."

(الفتاوى الهندية: كتاب النكاح، ج:1 ص:296، دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144209201192

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں