بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تین بیٹے اور دوبیٹیوں میں تقسیمِ میراث

سوال

ایک شخص کے ورثہ میں تین بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں، ان کے درمیان ترکے کی تقسیم کیسے ہوگی؟ واضح رہے کہ ایک بیٹے کی دماغی حالت ٹھیک نہیں ہے.

جواب

سوال میں ذکر کردہ ورثاء کی تفصیل (تین بیٹے اور دو بیٹیوں)کے مطابق  مرحوم کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ مرحوم کے ترکہ  میں  اس کے  حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالنے کے بعد،  اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو تو  اس کو کل ترکہ میں سے ادا کرنے کے بعد، اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے ایک تہائی ترکہ میں سے نافذ کرکے باقی کل منقولہ وغیر منقولہ ترکہ کو  8 حصوں میں تقسیم کرکے مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو 2،2 حصے اور ہر ایک بیٹی کو ایک، ایک حصہ ملے گا۔

یعنی مثلاً  100 روپے میں سے مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو 25روپے، اور ہر ایک بیٹی کو  12/50 روپے ملیں گے۔

جس بیٹے کو دماغی مرض لاحق ہے وہ بھی میراث کا بدستور حق دار ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010200906
تاریخ17-07-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں