
ایک شخص جو بریلوی مسلک کا ہے، اس نے ایک دیوبندی مسلک کے آدمی کوپیسے دیے کہ 10 محرم کو شربت تقسیم کروتو اب یہ دیوبندی کیا کرے؟
خاص محرم الحرام کے مہینہ میں سبیلیں لگانا،پانی یا شربت پلانایاسبیل وغیرہ کے لیے چندہ دینااور اسے کارِ ثواب سمجھنا،بدعت اور روافض کی مشابہت کی وجہ سے ناجائز ہے۔
لہذا صورت مسئولہ میں10 محرام الحرام کو شربت پلانے کے لیے چندہ دینا/ لینا دونوں ناجائز ہیں ،چناں چہ اگر کسی مسلمان کو یہ کہہ کررقم دی جائےکہ 10 محرم کو اس رقم سے لوگوں کو شربت پلاؤ،تو اس کےلیے یہ رقم لینا بھی جائز نہیں ہوگا،باقی اگرکسی نےناواقفیت کی بنا پر لے لی ہو تو اصل مالک کورقم واپس کردےکہ بدعت کی ترویج میں حصہ لینا بھی جائز نہیں۔
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من تشبه بقوم فهو منهم». رواه أحمد وأبو داود."
(کتاب اللباس، الفصل الثاني، ج:2، ص:1246، ط:المكتب الإسلامي)
"ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:”جس شخص نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی تو وہ شخص اسی قوم میں شمار ہوگا۔“
فیض القدیر میں ہے:
"(من تشبه بقوم) أي تزيا في ظاهره بزيهم وفي تعرفه بفعلهم وفي تخلقه بخلقهم وسار بسيرتهم وهديهم في ملبسهم وبعض أفعالهم أي وكان التشبه بحق قد طابق فيه الظاهر الباطن (فهو منهم) وقيل المعنى من تشبه بالصالحين وهو من أتباعهم يكرم كما يكرمون ومن تشبه بالفساق يهان ويخذل كهم ومن وضع عليه علامة الشرف أكرم وإن لم يتحقق شرفه...صرح القرطبي فقال: لو خص أهل الفسوق والمجون بلباس منع لبسه لغيرهم فقد يظن به من لا يعرفه أنه منهم فيظن به ظن السوء فيأثم الظان والمظنون فيه بسبب العون عليه."
(حرف المیم، ج:6، ص:104، ط:المكتبة التجارية الكبرى)
فتاوی رشیدیہ میں ہے:
”محرم میں ذکر شہادت حسین کرنا اگرچہ بروایات صحیحہ ہو یا سبیل لگانا، شربت پلانا یا چندہ سبیل اور شربت میں دینا یا دودھ پلانا سب نادرست اور تشبہ روافض کی وجہ سے حرام ہیں“۔
(کتاب العلم، ص:149،ط:عالمی مجلس تحفظ اسلام )
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144701100590
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن