بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1444ھ 08 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

ایک بکرے میں ایک سے زائد افراد کی شراکت کا حکم


سوال

کیا خاندان کے چار پانچ صاحبِ  نصاب افراد کی طرف سے ایک بکرے کی قربانی  ہوسکتی ہے؟

جواب

قربانی کے چھوٹے جانور ( مثلاً بکرا، بکری، دنبہ وغیرہ) میں صرف ایک آدمی ہی قربانی کرسکتا ہے، ایک آدمی کے ساتھ کوئی بھی دوسرا شخص شریک نہیں ہوسکتا ہے؛ لہذا ہر صاحبِ  نصاب آدمی کے  لیے الگ الگ قربانی کرنا ضروری ہے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما قدره فلايجوز الشاة والمعز إلا عن واحد و إن كانت عظيمةً سمينةً تساوي شاتين مما يجوز أن يضحى بهما؛ لأنّ القياس في الإبل والبقر أن لايجوز فيهما الاشتراك؛ لأنّ القربة في هذا الباب إراقة الدم وأنها لاتحتمل التجزئة؛ لأنّها ذبح واحد، وإنما عرفنا جواز ذلك بالخبر فبقي الأمر في الغنم على أصل القياس.

فإن قيل: أليس أنه روي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ضحى بكبشين أملحين أحدهما عن نفسه والآخر عمن لا يذبح من أمته فكيف ضحى بشاة واحدة عن أمته عليه الصلاة والسلام؟

(فالجواب) أنه عليه الصلاة والسلام إنما فعل ذلك لأجل الثواب؛ و هو أنه جعل ثواب تضحيته بشاة واحدة لأمته، لا للإجزاء و سقوط التعبد عنهم، و لايجوز بعير واحد و لا بقرة واحدة عن أكثر من سبعة، و يجوز ذلك عن سبعة أو أقل من ذلك، و هذا قول عامة العلماء."(5/ 70)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144211201730

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں