بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک دو تین میں تمہیں طلاق دیتا ہوں


سوال

میرا بیوی کے ساتھ جھگڑا ہوا،میری بیوی حاملہ تھی،چار ماہ کا حمل تھا،اس نے مجھے کہ مجھے چھوڑ دو تو میں نے غصے میں آکر کہا"ایک ،دو،تین میں تمہیں طلاق دیتا ہوں"

سوال یہ ہے کہ کیا اس سے طلاق واقع ہوجاتی ہے اور کتنی ہوتی ہیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں سائل  کے جملے :"ایک دو تین" سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی،البتہ"میں تمہیں طلاق دیتا ہوں"کہنے سے پہلے اگر کوئی طلاق نہیں دی تھی تو مذکورہ جملے سےبیوی پر صرف  ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی ہے۔عدت کے دوران(حمل کی صورت میں بچہ کی پیدائش تک) بیوی سے رجوع کا حق حاصل ہے، اگرسائل عدت گزرنے سے پہلے رجوع کرلیتا ہے تو نکاح برقرار رہے گا، دوبارہ نئے سرے سے نکاح کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی، لیکن اگر سائل عد ت کے اندررجوع نہیں کرتا  تو  نکاح ختم  ہوجائے گا۔  مطلقہ  آزاد ہوگی ،جہاں چاہے گی نکاح کرسکے گی ۔ نیز سائل   عدت  کےبعد باہمی رضامندی  سے شرعی  گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ نکاح کرسکتاہے، اس صورت میں آئندہ کے لیےاسےصرف دو طلاقوں کا اختیار ہو گا۔

الدر المختار وحاشیہ ابن عابدین میں ہے: 

"(و الطلاق يقع بعدد قرن به لا به) نفسه عند ذكر العدد، و عند عدمه الوقوع بالصيغة

"(قوله: و الطلاق يقع بعدد قرن به لا به) أي متي قرن الطلاق بالعدد كان الوقوع بالعدد بدليل ما أجمعوا عليه من أنه قال لغير المدخول بها: أنت طالق ثلاثاً طلقت ثلاثاً، و لو كان الوقوع بطالق لبانت لا إلى عدة فلغا العدد ..........وقال هنا ويدخل في العدد أصله وهو الواحدة ولا بد من اتصاله بالإيقاع، ولا يضر انقطاع النفس فلو قال: أنت طالق وسكت ثم قال :ثلاثا فواحدة، ولو انقطع النفس أو أخذ إنسان فمه ثم قال: ثلاثا على الفور فثلاث، ولو قال لغير المدخولة: أنت طالق يا فاطمة أو يا زينب ثلاثا وقعن؛ ولو قال: أنت طالق اشهدوا ثلاثا فواحدة، ولو قال: فاشهدوا فثلاث، وكذا في الظهيرية اهـ.

قلت: وحاصله أن انقطاع النفس وإمساك الفم لا يقطع الاتصال بين الطلاق وعدده، وكذا النداء لأنه لتعيين المخاطبة، وكذا عطف فاشهدوا بالفاء لأنها تعلق ما بعدها بما قبلها فصار الكل كلاما واحدا."

(کتاب الطلاق ، مطلب الطلاق يقع بعدد قرن به لا به،ج:3،ص:287، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144701100399

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں