بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک دو تین چلی جاؤ کہنے کا حکم


سوال

ہمارے ہاں رسم ہے کہ شادی ہونے کے بعد بیوی شادی کے تیسرے دن اپنے میکے جاتی ہے اور میری شادی کے تین دن بعدمیری بیوی بھی اپنی ماں کے گھر جا رہی تھی تو بیوی نے مجھ سے اجازت طلب کی اور میں نے پیار محبت سے بول دیا کہ کیوں جاتی ہو؟ ٹھہر جاؤ! اور بیوی کو اپنی گود میں لیا ہوا تھا کہ اچانک میرے منہ سے یہ جملہ نکلا: "ایک دو تین چلی جاؤ" اس وقت کوئی ارادہ نہیں تھا، اس جملے کے نکلنے کے بعد میرے ذہن میں یہ آیا کہ یہ میں نے کیا بولا ہے، شاید یہ طلاق کے الفاظ ہوں،  اب میں بہت پریشان ہوں کہ کیا ان الفاظ سے طلاق واقع ہو جاتی ہے یا نہیں؟ رہنمائی فرما دیجئے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر شوہر نے یہ الفاظ کہے: ایک دو تین چلی جاؤ اور ان الفاظ سے اس وقت طلاق کا کوئی ارادہ نہیں تھا تو ان الفاظ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، میاں بیوی کا نکاح برقرار ہے اور ساتھ رہنا جائز ہے، البتہ آئندہ کے لیے اس قسم کے الفاظ سے بھی اجتناب برتے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية."

(کتاب الطلاق،ركن الطلاق، جلد : 3 ، صفحہ : 230 ، ط :  سعید)

البحر الرائق میں ہے:

"ولو قال: اذهبي فتزوجي، وقال: لم أنو الطلاق لم يقع شيء؛ لأن معناه تزوجي إن أمكنك وحل لك، كذا في شرح الجامع الصغير لقاضي خان."

(كتاب الطلاق، باب الكنايات في الطلاق، 3/ 326، ط: دار الكتاب الإسلامي)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"ولو قال لها اذهبي أي طريق شئت لا يقع بدون النية وإن كان في حال مذاكرة الطلاق."

 

(كتاب الطلاق، الفصل الخامس في الكنايات في الطلاق،ج: 1، ص: 376، ط: رشيدية)

امداد الفتاوی میں ہے:

"یہ کہنا کہ چلی جا،ان کنایات سے ہے جن میں ہر حال میں نیت طلاق کی شرط ہے ..."

(امدادالفتاوی ،ج:4،ص: 364 ،ط:مکتبہ دارالعلوم)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703100658

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں