بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ربیع الثانی 1441ھ- 16 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

کیا چست لباس میں نماز ہوجاتی ہے؟


سوال

کیا اتنا تنگ لباس پہننا جائز ہے  جس سے جسم کی ساخت ظاہرہوتی ہو؟ ایسے لباس میں نماز پڑھنا جائز ہے؟

جواب

نماز ہو یا نماز کے علاوہ حالت ایسا چست لباس پہننا جس سے مستور اعضا کی ساخت ظاہر ہو ممنوع ہے۔ اگر کسی نے ایسا لباس پہن لیا ہو  اور اس دوران نماز کی ادائیگی کرنی ہو تو بڑی چادر سے پورا جسم چھپاکر نماز ادا کرلی جائے۔ البتہ اگر ایسے چست لباس میں نماز ادا کی جس سے مستور اعضا کی ساخت ظاہر ہورہی ہو تو نماز مکروہ (تحریمی) ہوگی، نماز کے اعادہ کی ضرورت نہیں، بشرطیکہ وہ لباس باریک نہ ہو کہ مستور اعضا دکھائی دیں۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(قَوْلُهُ: لَايَصِفُ مَا تَحْتَهُ) بِأَنْ لَايُرَى مِنْهُ لَوْنُ الْبَشَرَةِ احْتِرَازًا عَنْ الرَّقِيقِ وَنَحْوِ الزُّجَاجِ (قَوْلُهُ: وَلَايَضُرُّ الْتِصَاقُهُ) أَيْ بِالْأَلْيَةِ مَثَلًا، وَقَوْلُهُ: وَتَشَكُّلُهُ مِنْ عَطْفِ الْمُسَبَّبِ عَلَى السَّبَبِ. وَعِبَارَةُ شَرْحِ الْمُنْيَةِ: أَمَّا لَوْ كَانَ غَلِيظًا لَايُرَى مِنْهُ لَوْنُ الْبَشَرَةِ إلَّا أَنَّهُ الْتَصَقَ بِالْعُضْوِ وَتَشَكَّلَ بِشَكْلِهِ فَصَارَ شَكْلُ الْعُضْوِ مَرْئِيًّا فَيَنْبَغِي أَنْ لَايَمْنَعَ جَوَازَ الصَّلَاةِ لِحُصُولِ السَّتْرِ. اهـ. (كتاب الصلاة، باب شروط الصلاة، مطلب في ستر العورة، ١/ ٤١٠)

 

في عمدة القاري:  أَنه صَلَّی اللَّه علیه وَسَلَّم  حذر أهله وَجَمِیع الْمُؤْمِنَات من لِبَاس رَقیق الثِّیاب الواصفة لأجسامهن بقوله: کم من کاسیة في الدنیا عاریة یوم القیامة، وفهم منه أن عقوبة لابسة ذلک أن تعری یوم القیامة". ( باب ماکان النبي صلی الله علیه وسلم یتجوز من اللباس ، ج: ۲۲، ص: ۲۰، ط: دار إحیاء التراث العربي)

’’في تکملة فتح الملهم: فکل لباس ینکشف معه جزء من عورة الرجل والمرأة لاتقره الشریعة الإسلامیة ..... وکذلک اللباس الرقیق أو اللا صق بالجسم الذي یحکي للناظر شکل حصة من الجسم الذي یجب ستره، فهو في حکم ماسبق في الحرمة وعدم الجواز". ( کتاب اللباس والزینة:۴/۸۸)   فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008200163

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے