بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 19 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

کمپنی کا اپنی مصنوعات کی خرید پر انعام مقرر کرنا


سوال

ایک کمپنی اپنی پروڈکٹ کو زیادہ سے زیادہ فروخت کرنے اور مارکیٹ میں اپنے گاہک بڑھانے کے لیے ایک انعامی سلسلہ شروع کرتی ہے اور ایک کوٹہ مقرر کرکے جیسے دس ہزارکسٹمرز میں سے کسی ایک کو پانچ یا دس ہزار روپے نقد انعام دینے کا وعدہ کرتی ہے۔کیا یہ جائز ہے ؟ جب کہ بکنے والی چیز کی قیمت مارکیٹ ریٹ سے زیادہ نہیں ہوتی اور چیز بھی ضرورت کی ہوتی ہے، جیسےکپڑا صابن جوس یا خوشبو وغیرہ ؟

جواب

کمپنی کا  اپنی مصنوعات کی فروخت بڑھانے  کے لیے ذکر کردہ انعامی سلسلہ شروع کرنا درج ذیل شرائط کے ساتھ مشروط ہے:
(۱) مذکورہ کمپنی   نے سامان کی قیمت اتنی ہی مقرر کی ہو جو کہ مارکیٹ میں ایسے سامان کی رائج ہو، یعنی  اس سامان کی عام قیمت میں انعام کی بنا پر اضافہ نہ کیا ہو؛ اگر  انعامی اسکیم کی بنا پر مارکیٹ ریٹ (ثمن مثل) سے زیادہ ریٹ (قیمت) رکھے گا تو گویا خریدار (گاہک) انعام کی امید اور لالچ میں اس کمپنی  سے سامان مہنگے داموں خرید رہا ہے، جب کہ انعام کا ملنا یقینی نہیں، بلکہ موہوم ہے، اس طرح یہ معاملہ جوئے (قمار) کے مشابہ ہونے کی وجہ سے ناجائز ہوگا۔
(۲) کمپنی پروڈکٹ کا معیار بھی کم نہ کرے اوراس انعامی اسکیم کو اپنی ناقص مصنوعات کے نکالنے کا ذریعہ نہ بنائے، یعنی انعام  کا لالچ دے کر لوگوں کو اپنی ناقص مصنوعات خریدنے کی طرف راغب نہ کرے۔
چنانچہ اگر مذکورہ شرائط کی مکمل رعایت رکھی جائے تو  کمپنی  کا قرعہ اندازی کے ذریعہ گاہک کو انعام دینا  اس  کی طرف سے تبرع اور احسان شمار ہوگا اور گاہک (کسٹمر) کے لیے اس انعام کا لینا جائز ہوگا، لیکن اگر مذکورہ شرائط مفقود ہو ں تو اس صورت میں یہ معاملہ جائز نہیں ہوگا۔

احکام القرآن للجصاصمیں ہے:
"وقال قوم من أهل العلم: القمار كله من الميسر وأصله من تيسير أمر الجزور بالاجتماع على القمار فيه وهو السهام التي يجيلونها فمن خرج سهمه استحق منه ما توجبه علامة السهم فربما أخفق بعضهم حتى لايخطئ بشيء وينجح البعض فيحظى بالسهم الوافر وحقيقته تمليك المال على المخاطرة وهو أصل في بطلان عقود التمليكات الواقعة على الأخطار كالهبات والصدقات وعقود البياعات ونحوها إذا علقت على الأخطار ... ولأن معنى إيسار الجزور أن يقول من خرج سهمه استحق من الجزور كذا فكان استحقاقه لذلك السهم منه معلقاً على الحظر". (المائدة:۹۰ ، باب تحریم الخمر، ج:۴ ؍۱۲۷ ،ط:دار إحیاء التراث العربي، بیروت)
    مصنف ابن أبي شیبة
میں ہے:
"عن ابن سیرین قال: کل شيء فیه قمار فهو من المیسر". (کتاب البیوع و الأقضیة، البیض الذي یقامر فیه، ج:۴ ؍۴۸۳ ،مکتبة الرشد الریاض)
فتاویٰ شامی
میں ہے:
"لأن القمار من القمر الذي يزداد تارةً وينقص أخرى، وسمي القمار قماراً لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص". (کتاب الحظر و الإباحة، فصل في البیع، ج:۶ ؍۴۰۳ ،ط:سعید )فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012200808

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے