بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 صفر 1442ھ- 25 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

کسی کی تحریر شائع کرنا


سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں:

دوسرے کی پوسٹ کو اس کی اجازت کے بغیر کاپی کرنا، اسی طرح  play stor، یوٹیوب وغیرہ سے ویڈیوز وغیرہ ڈاؤن لوڈ  کرنا کیسا ہے؟ جب کہ اس میں پہلے ہی سے شیئر کا آپشن موجود رہتا ہے، اس کے باوجود بندہ بذاتِ خود پوسٹ کرلیتا ہے اور ویڈیوز  ڈاؤن لوڈ  کرلیتا ہے، اور اس شیئر کے آپشن کو عمل میں نہیں لاتا، ایسا کرنا کیسا ہے؟ کیا اس سے بندہ  چوری کرنے کے زمرہ میں تو نہیں آئے گا؟ 

جواب

 کسی کی تحریر بعینہٖ، بلا اجازت اور بلا حوالہ استعمال کرنا شرعاً اور اخلاقاً درست نہیں؛ لہذا دوسرے کی تحریر  کسی بھی پلیٹ فارم پر اس تاثر کے ساتھ بھیجنا کہ پڑھنے والے اس کی تحریر سمجھیں شرعاً درست نہیں ہے، اور اگر دوسرے کی تحریر بعینہ لے کر اسے اپنے نام کے ساتھ   منسوب کردی جائے تو یہ (معنوی) چوری کے حکم میں ہوگا۔

کسی اور  کی لکھی ہوئی تحریر آگے بھیجنے کے لیے درج ذیل تین باتوں میں سے ایک کا اہتمام ضروری ہے:

1-  لکھنے والے کا نام یا اس کی کتاب، ویب سائٹ یا پیج وغیرہ کا حوالہ دیا جائے۔

2- لکھنے والے کی طرف سے اس تحریر کو نقل کرنے کی اجازت ہو۔

3-  اس تحریر سے استفادہ کرنے کے ساتھ ساتھ اس میں تحقیق و اضافہ کرکے اس میں اتنی بنیادی تبدیلی کرچکا ہو  کہ اسے اِس کی تحریر کہا جاسکے۔

واضح رہے کہ ویڈیوز  میں اگر جان دار  کی تصویر  یا کوئی اور ناجائز بات ہو تو اسے ڈاؤن لوڈ کرنا یا شیئر کرنا جائز نہیں ہے۔ اگر ویڈیو میں ایسی کوئی شرعی خرابی نہ ہو اور یوٹیوب یا پلے اسٹور سے اسے ڈاؤن لوڈ کرنا منع نہ ہو (یعنی  یوزرز کے لیے ڈاؤن لوڈنگ کی سہولت میسر ہو) تو ان دو پلیٹ فارمز سے ڈاؤن لوڈ کیا جاسکتاہے، نیز شیئر کا آپشن ہو تو یہاں سے شیئر بھی کیا جاسکتاہے۔ البتہ اس حوالے سے قانون کی رعایت ضروری ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144107200821

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں