بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ربیع الثانی 1441ھ- 13 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

پینٹ شرٹ میں نماز پڑھنا


سوال

پینٹ  شرٹ میں نماز پڑھنے سے کیا   فرض ادا ہو جاتا ہے یعنی ذمہ سے وہ نماز ادا ہو جاتی ہے اور باقی ثواب کچھ بھی نہیں ملتا ؟

جواب

اگر پینٹ شرٹ ڈھیلی ڈھالی ہو جس کے پہننے سے   اعضاء   واضح اور نمایاں نہ ہوتے ہوں،اور پائنچے ٹخنوں سے اوپرہوں تواس میں نماز ہوجاتی ہے ،اگرچہ بہتر پھر بھی یہی ہے کہ نماز کے لیے شلوار قمیص استعمال کی جائے۔

اور اگر پینٹ شرٹ اتنی چست ہو جسے پہن کر اعضاء نمایا ں ہوتے ہوں، اس صورت میں  اگر ایسی پینٹ کے اوپر کرتایا قمیص بھی نہ ہو کہ جس سے کسی درجہ میں پردہ کا فائدہ حاصل ہوسکے تو ایسے لباس میں نماز مکروہ ہوگی،یعنی فرض اداہوجائے گا مگر کامل ثواب نہیں ملے گا۔

حضرت مولانا محمدیوسف لدھیانوی شہیدرحمہ اللہ لکھتے ہیں:

''پینٹ کے اوپر اگر کرتا نہ ہو تو اس میں نماز مکروہ ہے''۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل :3/325مکتبہ لدھیانوی)

فتاوی شامی میں ہے:

"( ويمنع ) حتى انعقادها ( كشف ربع عضو ) قدر أداء ركن بلا صنعه ( من عورة غليظة أو خفيفة ) على المعتمد ( والغليظة قبل ودبر وما حولهما والخفيفة ما عدا ذلك ) من الرجل والمرأة، وتجمع بالأجزاء لو في عضو واحد وإلا فبالقدر، فإن بلغ ربع أدناها كأذن منع ( والشرط سترها عن غيره ) ولو حكماً كمكان مظلم ( لا ) سترها ( عن نفسه )، به يفتى فلو رآها من زيقه لم تفسد وإن كره ( وعادم ساتر ) لايصف ما تحته ولايضر التصاقه وتشكله ... الخ" (1/410)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144001200642

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے