بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 12 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

ٹیکس کی شرعی حیثیت


سوال

1- میں سعودی عرب میں مقیم ہوں، یہاں ہم کھانے پینے کی اشیاء  سمیت ہر چیز پر پانچ فیصد ٹیکس ادا کرتے ہیں تو  کیا یہ پانچ فیصد ٹیکس جو حکومت ہم سے وصول کرتی ہے یہ سود کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں؟

2- جو موجودہ حکومتِ پاکستان نے ایک قرضہ اسکیم متعارف کروائی ہے کیا وہ بھی سودی نظام ہے؟

جواب

1) کسی بھی مملکت اور ریاست کو ملکی انتظامی امور چلانے کے لیے،مستحقین کی امداد، سڑکوں، پلوں اور تعلیمی اداروں کی تعمیر، بڑی نہروں کا انتظام، سرحد کی حفاظت کا انتظام، فوجیوں اور سرکاری ملازمین کو مشاہرہ دینے کے لیےاور دیگر ہمہ جہت جائز اخراجات کو پورا کرنے کے لیے وسائل کی ضرورت ہوتی ہے، اوران وسائل کو پورا کرنے کے لیے نبی کریمﷺ، خلفاء راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مبارک عہداور ان کے بعد کے روشن دور میں بیت المال کا ایک مربوط نظام قائم تھااور اس میں مختلف قسم کے اموال جمع کیے جاتے تھے،مثلاً:

1۔ ’’خمسِ غنائم‘‘ یعنی جو مال کفار سے بذریعہ جنگ حاصل ہو اس کے چار حصے مجاہدین میں تقسیم کرنے کے بعدباقی پانچواں حصہ۔

2۔ مالِ ِ فییٔ یعنی وہ مال جو بغیر کسی مسلح جدو جہد کے حاصل ہو۔

3۔ ’’خمسِ معادن‘‘یعنی مختلف قسم کی کانوں سے نکلنے والی اشیاء میں سے پانچواں حصہ۔

4۔ ’’خمسِ رکاز ‘‘  یعنی جو قدیم خزانہ کسی زمین سے برآمد ہو ، اس کا بھی پانچواں حصہ۔

5۔ غیر مسلموں کی زمینوں سے حاصل شدہ خراج اور ان کا جزیہ اور ان سے حاصل شدہ تجارتی ٹیکس اور وہ اموال جو غیر مسلموں سے ان کی رضامندی کے ساتھ مصالحانہ طور پر حاصل ہوں۔

6۔ ’’ضوائع‘‘  یعنی لا وارث مال ، لاوارث شخص کی میراث وغیرہ۔

لیکن آج کے دور میں جب کہ یہ اسباب و وسائل  ناپید ہوگئے ہیں تو ان ضروریات اور اخراجات کو پورا کرنے کے لیےٹیکس کا نظام قائم کیا گیا؛ کیوں کہ اگر حکومت ٹیکس نہ لے تو فلاحی مملکت کا سارا نظام خطرہ میں پڑ جائے گا۔ البتہ اس میں شک نہیں کہ مروجہ ٹیکس کے نظام میں کئی خرابیاں ہیں، سب سے اہم یہ ہے کہ ٹیکس کی شرح بعض مرتبہ نامنصفانہ، بلکہ ظالمانہ ہوتی ہےاور یہ کہ وصولی کے بعدبے جا اسراف اور غیر مصرف میں ٹیکس کو خرچ کیا جاتا ہے،لیکن بہرحال ٹیکس کے بہت سے جائز مصارف بھی ہیں؛ اس لیے امورِ مملکت کو چلانے کی خاطر حکومت کے لیے بقدرِ ضرورت اور رعایا کی حیثیت کو مدِّ نظر رکھ کر ٹیکس لینے کی گنجائش نکلتی ہے۔

  اوپر ذکر کردہ تفصیل کے مطابق اگر حکومت کے  جائزمصارف دیگر ذرائعِ آمدنی سے پورے نہیں ہوتےتو  چند شرائط کے ساتھ حکومت کو اپنے مصارف پورا کرنے کے لیے ٹیکس لینےکی اجازت ہوگی:

1۔ بقدرِ ضرورت ہی ٹیکس لگایا جائے۔

2 ۔لوگوں کے لیے قابلِ برداشت ہو۔

3۔وصولی کا طریقہ مناسب ہو۔

4۔ ٹیکس کی رقم کو ملک و ملت کی واقعی ضرورتوں اور مصلحتوں پر صرف کیاجائے۔ 

جس ٹیکس میں مندرجہ بالا شرائط کا لحاظ نہ کیا جاتا ہو تو حکومت کے لیے ایسا ٹیکس جائز نہیں، اور ایسا ٹیکس لینے والوں کے متعلق احادیث میں وعید آئی ہے۔ 

2) مذکورہ قرضہ اسکیم میں  اگر سودشامل ہو یعنی سود خود ادا کرنا پڑے، یا سودی معاہدہ کرنا پڑے، تو ایسی صورت میں مذکورہ  اسکیم سے قرضہ حاصؒل کرنا جائز نہیں ۔ کسی خاص اسکیم کی مکمل شرائط اور معاہدہ بھیجا جائے تو  اس کے مطابق فتوی دیا جاسکتا ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144102200105

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے