بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 19 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

موٹر سائیکل کی قرعہ اندازی کی ایک صورت


سوال

ہمارے یہاں 100 آدمیوں نے ایک کمیٹی بنائی ہے، ان میں سے ہر ایک مہینے کے شروع میں 2700 روپے جمع کراتا ہے، کمیٹی والے ان پیسوں سے صرف ایک موٹرسایؑکل خریدتے ہیں جو قرعہ اندازی کے ذریعہ ایک ممبر کمیٹی کو مل جاتا ہے اور موٹرسایؑکل لینے کے بعد وہ ممبر کمیٹی سےفارغ ہوجاتا ہے، یعنی اول بار جس کے حق میں کمیٹی نکل آتی ہے اس کے لیے 50000 روپے والی موٹرسائیکل 2700 کی پڑتی ہے اور اس کے بعد اس ممبر نے اقساط بھی نہیں جمع کرانی ہیں،  کمیٹی مٰیں اسی طرح دوسری قرعہ اندازی جس ممبر کے حق میں نکل آئے  اس کے لیے 5400روپے میں پڑتی ہے۔

اس کمیٹی اور قرعہ اندازی کا کیا حکم ہے؟ اور اگر کوئی  اس کمیٹی میں کسی وجہ سے شامل ہوا ہے اور اقساط 50000 تک جو اصل قیمت ہےادا کرےخواہ موٹرسایؑکل اصل قیمت سے پہلے نکل آئے، اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

قرعہ اندازی کا مذکورہ طریقہ شرعاً درست نہیں، اس میں ٹوکن خرید کر اس سے موٹر سائیکل لینا سود اور قمار پر مشتمل ہونے کی وجہ  سے جائز نہیں ہے،اس میں جس نے جتنے ٹوکن خریدے ہوں اتنے ہی پیسے قرعہ اندازی والوں سے وصول کرسکتا ہے۔اس سے زیادہ کی کوئی چیز لینا بھی درست نہیں۔ اگر کسی نے مکمل رقم جمع کروادی ہو تو اس کے لیے اپنی اصل رقم  لینا جائز ہے۔ البتہ مذکورہ معاملہ چوں کہ ناجائز ہے، اس لیے ناجائز معاہدہ کرنا بھی شرعاً ناجائز ہے، لہٰذا اگر کوئی اس نیت سے  مذکورہ قرعہ اندازی میں شامل ہوتا ہے کہ  مکمل رقم جمع کرانے سے پہلے قرعہ نکل آئے تو بھی وہ پوری رقم جمع کرائے گا،  پھر بھی اس معاملے میں شریک ہوناجائز نہیں ہے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004201372

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے