بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 شعبان 1441ھ- 05 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

ماسک پہن کر نماز پڑھنا


سوال

آج کل کرونا وائرس کی وجہ سے لوگ ماسک پہن کر نماز پڑھتے ہیں اور ہمارے امام صاحب بھی ماسک پہن کر نماز پڑھاتے ہیں اس طرح نماز پڑھنا اور پڑھانا درست ہے؟

جواب

فقہاءِ کرام نے لکھا ہے کہ عام حالات میں بلا عذر  ناک اور منہ کسی کپڑے وغیرہ میں لپیٹ کر نماز پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے، البتہ اگر کسی عذر کی وجہ سے نماز میں چہرہ کو ڈھانپا جائے یا ماسک پہنا جائے تو  نماز بلا کراہت  درست ہو گی؛ لہٰذا موجودہ وقت میں وائرس سے بچاؤ کی تدبیر کے طور پر احتیاطاً ماسک پہن کر نماز پڑھنے سے نماز بلاکراہت ادا ہوجائے گی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 652):
"يكره اشتمال الصماء والاعتجار والتلثم والتنخم وكل عمل قليل بلا عذر".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 652):
"(قوله: والتلثم) وهو تغطية الأنف والفم في الصلاة؛ لأنه يشبه فعل المجوس حال عبادتهم النيران، زيلعي. ونقل ط عن أبي السعود: أنها تحريمية".

جہاں تک مذکورہ وائرس (یا دیگر مضر چیزوں اور بیماریوں) سے بچاؤ کا معاملہ ہے، اس کے لیے درج ذیل دعا کا اہتمام رکھیں:

"أَعُوْذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ.

بِسْمِ اللهِ الَّذِيْ لاَ يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْئٌ فِيْ الأَرْضِ وَ لاَ فِيْ السَّمَاءِ وَ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ".

مذکورہ بالا دونوں دعائیں صبح و شام  ( فجر اور مغرب کی نماز کے بعد )  اہتمام کے ساتھ تین تین مرتبہ پڑھنے کا معمول بنائیں، اللہ کی ذات سے قوی امید ہے کہ وہ تمام موذی امراض سے محفوظ فرمائے رکھے گا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144107200280

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے